بھارت کے ساتھ مذاکرات اصولی طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے چاہیے،سردار مسعود خان

ان مذاکرات میں بھارت پاکستان کے علاوہ کشمیریوں کی مذاکرات کی میز پر موجودگی ضروری ہے،پاکستان کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ کشمیریوں نے خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اور یہی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں لکھا ہے،صدر آزاد کشمیر

مظفر آباد آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات اصولی طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے چاہیے اور ان مذاکرات میں بھارت پاکستان کے علاوہ کشمیریوں کی مذاکرات کی میز پر موجودگی ضروری ہے۔ یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونا اس لیے بھی ضروری ہیں کہ اقوام متحدہ نے کشمیر کے حوالے سے اپنی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو آگے بڑھانا اور ان پر عملدرآمد کرنا ہے۔بھارت نے دو طرفہ مذاکرات کو ہمیشہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے اور کشمیریوں اور اقوام متحدہ کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے اور اب وہ ایک بار پھر مذاکرات کو اپنے حالیہ غیر قانونی اقدامات سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویڑن کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اب جبکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اٹھایا جا چکا ہے یہ مذاکرات اصولی طور پر دلی اور اسلام آباد کے بجائے نیو یارک میں ہونے چاہیے لیکن کشمیریوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے یہ مذاکرات دلی، اسلام آباد یا سرینگر اور مظفرآباد میں بھی ہو سکتے ہیں۔

مذاکرات کہیں بھی ہوں ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مذاکرات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کے فریم ورک کے اندر ہی ہوں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے حالیہ بھارت مخالف موقف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کشمیریوں کے لیڈر نہیں ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کشمیر کو اپنے اقتدار کے لیے بھارت کے ہاتھوں فروخت کیا اب جبکہ ان سے اقتدار چھین لیا گیا ہے اور تمام مراعات واپس لے لی گئی ہیں تو وہ بھارت کے خلاف مورچہ بند ہو کر اور بلیک میل کر کے ایک بار پھر اقتدار کے لیے کوئی ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کسی کشمیری پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ فاروق عبداللہ خاندان اور مفتی خاندان کی بھارت کے ساتھ وفاداریوں کی ایک طویل تاریخ ہونے کے باوجود گزشتہ سال پانچ اگست کے دن جب بھارت نے دفعہ 370 اور -35 اے ختم کی اور اس کے بعد کئی اہم اقدامات اٹھائے تو نہ صرف فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ انہیں گرفتار کر کے جیل میں بھی ڈال دیا تھا۔لیکن اب ان کو رہا کر دیا گیا ہے اور ہو سکتا ہے بھارت ان کو دوبارہ استعمال کرنا چاہتا ہو یا یہ خود استعمال ہونا چاہتے ہوں تاکہ انہیں ایک بار پھر دہلی کے دربار میں سندِ قبولیت ملے اور وہ کشمیریوں کو دھوکہ دے سکیں۔ ان لوگوں نے ہمیشہ کشمیریوں کو دھوکہ دیا ہے اور یہ ایک بار پھر بھیس بدل کر دھوکہ دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح تر ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی تنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو حل کرنا چاہیے جبکہ بھارت اسے دوطرفہ بھی نہیں بلکہ یکطرفہ یعنی اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔پاکستان کی طرف سے مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کی شمولیت کی شرط کو بھی بھارت کبھی قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ کشمیریوں نے خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اور یہی اقوام متحدہ کی قراردادوں میں لکھا ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی سہ فریقی مذاکرات پر زور دیتا رہے۔اس وقت جبکہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی برادری کے پاس ہے تو اس کو عالمی برادری کے پاس ہی رہنا چاہیے تاکہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کرنے، کشمیریوں کی زمین چھننے اور انہیں اپنے گھروں سے بے گھر کرنے کے عمل سے روکا جا سکے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل دینے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارتی حکومت سابق فوجیوں، سابق بیورو کریٹس اور ان کے خاندانوں کے جن افراد کو ڈومیسائل دے کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کر رہا ہے وہ بھارتی ہندو ہیں اور ان کو آباد کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بھارت نے اگلے دو سال میں آبادی کے تناسب میں ہی نہیں بلکہ پوری کی پوری آباد ی کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔بھارت نے گزشتہ 72 سال میں کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا لیکن وہ اس میں ناکام رہا ہے۔ اس لیے اب اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آبادی کو تبدیل کر دیا جائے اور اس قوم کو ہی ختم کر دیا جائے جو بھارتی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بھارت کو اس عمل سے صرف اسی صورت روکا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں آباد کشمیری اور پاکستانی اٹھ کھڑے ہوں اور بین الاقوامی برادری سے سیاسی سطح پر رابطے کر کے ان کی حمایت حاصل کریں تاکہ بھارت کو اس غیر قانونی عمل سے روکا جا سکے۔