حریت رہنما شاہد سلیم کی تاریخی مغل روڈ پرمسافروں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت

جموں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنما اور جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے تاریخی مغل روڈ پر جو پونچھ اور راجوری اضلاع کو وادی کشمیر سے جوڑتی ہے، مسافروں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر شاہد سلیم نے جموں میں سڑک کھولنے کے مطالبے کے حق میںمظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیرپنجال اور جنوبی کشمیر کے عوام کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کیلئے مغل روڈ کو بند کرنے کی سازش کرنے پر بھارتی حکام پر تنقید کی۔

میر شاہد سلیم نے کہا کہ بھارت نہیں چاہتا کہ دونوں خطوں کے لوگ ایک دوسرے سے ملیں، ان کے درمیان ثقافتی روابط ہوں اور 84 کلو میٹر طویل مغل روڈ کے ذریعے معاشی سرگرمیاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2009 ء میںمغل روڈ کے افتتاح کے بعد سے ہی اس کو کبھی معمول کے مطابق کھلا نہیں رکھاگیا۔ حریت رہنما نے کہاکہ بغیر کسی جواز کے سڑک کو بار بار بند کرنا ان علاقوں کے لوگوں کے لئے اجتماعی سزا کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی بندش سے لوگوں کو بہت بڑا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑرہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سڑک کو جلد سے جلد نہ کھولا گیا تو بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کیا جائے گا۔