نواز شریف: العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر کارروائی میری عدم موجودگی میں جاری رکھی جائے

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدالت العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں اُن کے موکل کی اپیل پر اُن کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھے کیونکہ نواز شریف کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ بیرون ملک سے اپنا علاج چھوڑ کر پاکستان میں عدالت کے روبرو پیش ہوں۔

چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے ریفرنس میں سزا کے خلاف مجرم میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ پہلے وہ خود کو سرینڈر کریں جس کے بعد اُن کی اپیل پر سماعت ہو گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ضمانت ختم ہو چکی ہے لہذا نواز شریف 10ستمبر تک اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں مجرم نواز شریف کو اشتہاری بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ جمعرات کو اس اپیل کی سماعت کرے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے بھی آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے ساتھ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے جو کہ چار ستممبر کو جاری کی گئی تھی۔

اس سے پہلے عدالت میں سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں جو رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی وہ 26اگست کی تھی۔

نواز شریف

خواجہ حارث کے مطابق اس درخواست کے ساتھ ان کے موکل کے علاج کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور امریکہ میں ان کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر فیاض شال کی شفارشات بھی لف ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ سفر کر سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جب ان کا علاج مکمل ہو گا اور ڈاکٹر اُنھیں سفر کرنے کی اجازت دیں گے تو وہ واپس آ جائیں گے۔

اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک اجازت دینے کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے اور اس عدالتی فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ سمجھے کہ مجرم نواز شریف کی صحت ٹھیک ہے اور وہ جان بوجھ کر وطن واپس نہیں آ رہے تو وفاقی حکومت ان کی ذاتی معالج سے رابطہ کر کے ان کی صحت کے حوالے سے مستند رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نہ تو وفاق اور نہ ہی نیب کی طرف سے چیلنج کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ پہلے اس معاملے کا لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ ہو لینے دے۔

اس درخواست پر اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے یہ آبزرویشن کہ سابق وزیر اعظم جب بیرون ملک گئے تھے تو وہ عدالت کو بتا کر نہیں گئے، حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

کیونکہ میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی تو عدالت میں ان کی حاضری سے استثنی کی درخواست دی گئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مجرم علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے ہیں اور عدالت نے ان کی استثنی کی درخواست کو منظور کیا تھا۔

اس درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ گذشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب سابق وزیر اعظم کو آٹھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی اس میں یہ کہیں نہیں لکھا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے یا وہ اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔

اس بارے میں قانونی ماہر شاہ خاور کا کہنا ہے کہ اپیل کی سماعت کے دوران اپیل کنندہ کا عدالت میں پیش ہونا ضروری نہیں ہے اور عدالت اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کارروائی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس کسی بھی شخص کو اشہتاری قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی کو اشتہاری قرار دینے کا اختیار مجسٹریٹ کے پاس ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ احتساب عدالت کے جج کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی ہوتے ہیں اس لیے وہ اس معاملے کو احتساب عدالت میں بھیج سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتسا ب عدالت کے جج ارشد ملک نے قید کی سزا سنائی تھی تاہم ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس کے بعد مذکورہ جج کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اُنھیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

نواز شریف نے جج ارشد ملک کے مبینہ متنازع فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر رکھی ہے۔

توشہ خانہ کیس: زرداری اور گیلانی پر فردِ جرم عائد، نواز شریف اشتہاری قرار

پاکستان

اس سے قبل بدھ ہی کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں حاصل کرنے کے مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دائمی وارنٹ جاری کرتے ہوئے اُنھیں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزم نواز شریف کی پاکستان میں جائیدادوں کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے اس مقدمے کی سماعت کی تو انھوں نے ملزمان آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے ملزمان پر لگائے گئے الزامات پڑھ لیے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ انھوں نے الزامات پڑھ لیے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے اس مقدمے میں ملزمان پر عائد کیے گئے الزامات پڑھ کر سنائے تاہم ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔

پاکستان کے سابق صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ دو اور ملزمان عبدالغنی اور عبدالمجید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ ملزم عبدالمجید ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شامل تھے۔

احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان صحت جرم سے انکار کر رہے ہیں؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ نہ صرف صحت جرم سے انکار کر رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہ وزیراعظم کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی سمری کی منظوری دے۔ انھوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے اختیارات کے استعمال کا غلط ریفرنس بنایا ہے۔

اس موقع پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی خود روسٹرم پر آ گئے اور انھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ، میں نے کبھی رولز کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔‘

آصف زرداری

انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جو سمری آئی تھی اسے منظور کیا اور اگر سمری غلط ہوتی تو سمری انھیں بھیجی ہی نہ جاتی۔

احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ ابھی عدالت مقدمے کے میرٹ پر بات نہیں کر رہی کہ سمری کیسے آئی اور کیسے منظور ہوئی۔ اُنھوں نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات ٹرائل کے دوران عدالت کو بتائیں۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب نے رولز آف بزنس کو دیکھے بغیر ریفرنس بنایا۔

خیال رہے کہ اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ملزم آصف زرداری پر توشہ خانہ سے تحائف میں ملنے والی گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کرنے کا الزام ہے جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر یہ گاڑیاں مذکورہ افراد کو دینے سے متعلق سمری منظور کرنے کا الزام ہے۔

عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سرکاری گواہان کو طلب کر لیا ہے۔

دریں اثنا احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 17 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔