غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ سروس پر پابندی میں30 ستمبر تک توسیع

سرینگر  غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںقابض حکام نے دو اضلاع کے سواتمام اضلاع میں 4 جی انٹرنیٹ سروس پر پابندی 30 ستمبر تک بڑھا دی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے کے محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری شیلین کابرا کی طرف سے سرینگر میں جاری کئے گئے ایک حکنامے کے مطابق گاندربل اور ادھم پور اضلاع کے سوامقبوضہ علاقے کے تمام اضلاع میں 4 جی انٹرنیٹ پر پابندی عائد ہوگی۔قابض حکام نی10 اگست کوایک خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں گاندربل اور ادھم پور اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر تیز رفتار موبائل ڈیٹاسروس کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ تاہم باقی اضلاع میں صرف 2Gسروس تک ہی محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

شیلین کابرا کے جاری کردہ تازہ احکامات کے مطابق نظرثانی کمیٹی نے 21 اگست اور یکم ستمبر کو ان ہدایات کا دوبارہ جائزہ لیا۔

کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس جائزے کا نوٹس لیتے ہوئے کہ گاندربل اور ادھم پور اضلاع میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کے غلط استعمال کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے،کہا کہ اس صورتحال پر قریب سے نظررکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم حکم نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن وامان کو بحالی کے دوران تیز رفتار ڈیٹا سروسز کے غلط استعمال کے امکانات کا اشارہ دیا ہے۔شیلین کابرا نے حکم میں کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار سے متعلق ہدایات 30 ستمبر 2020 تک لاگو رہیں گی بشرطیکہ اس سے پہلے اس میں ترمیم نہ کی جائے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت فسطائی بھارتی حکومت نے 05 اگست 2019 ء کو مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز معطل کردی تھیں جب علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے فوجی محاصرے میں لیاگیا تھا۔اگرچہ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مقبوضہ علاقے میں لینڈ لائن فونز اور 2 جی انٹرنیٹ سروسز کو بحال کردیا گیا ہے لیکن پری پیڈ موبائل اور 4 جی انٹرنیٹ رابطے کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے، ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حریت رہنمائوں، سیاسی کارکنوں اور اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ ، رپورٹرز ودا ٓئوٹ بارڈرز اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت عام لوگوں اورصحافیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے کوروناوائرس کی وبا کے سبب پیداہونے والی صورتحال میں کشمیریوںکی مدد کے لئے بار بار 4 جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا۔تاہم مودی حکومت نے ان مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی اوران سروسز پر پابندی میں توسیع کرتی رہی۔