احترامِ اسـتاد

تحریر: سـید آصـف رَضـا (ناربل، بڈگام)

کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں اُستاد ایک اہم کردار ادا کرتاہے۔ ماں باپ کے بعد یہ اُستاد کی تربیت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ معاشرے کے بناؤ میں اپنا حصّہ ادا کر سکے۔ ایک انسان کتنی ہی ترقی کرے، اسے یہ بات کبھی فرموش نہیں کرنی چاہیے کہ اُس کی کامیابی کا پہلا زینہ اُستاد ہی نے طے کرایا ہے۔ اصل میں کامیاب وہی لوگ ہیں جو اپنے اساتذہ کو زندگی بھر نہیں بھولتے اور اُن کی عزّت و تکریم کرنا اپنا فرضِ اوّلین سمجھتے ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ ایک اُستاد اور معلم کی عظمت اس طرح بیان فرماتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ ترجمہ: اللّٰه تعالىٰ رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین میں رہنے والی ساری مخلوقات یہاں تک کہ چونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور (پانی میں رہنے والی) مچھلیاں بھی اس بندے کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی اور دین کی تعلیم دیتا ہے۔
(جامع ترمذی، بروایتِ حضرت ابو امامہ رضی اللّٰه عنه)

حضرت علی کرم اللّٰه تعالیٰ وجہه الکریم اُستاد کے احترام کے بارے میں فرماتے ہیں: لَا تَجْعَلَنَّ ذَرَبَ لِسَانِكَ عَلَى مَنْ أَنْطَقَكَ – وبَلَاغَةَ قَوْلِكَ عَلَى مَنْ سَدَّدَكَ (اپنی زبان کی تیزی اس کے خلاف استعمال نہ کرو جس نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اور اپنے کلام کی فصاحت کا مظاہرہ اس پر نہ کرو جس نے راستہ دکھایاہے۔)

ایک بار حضرت زید ابن ثابت رضی اللّٰه عنه نے ایک جنازے میں شرکت فرمائی۔ جنازے کی نماز کے بعد آپؓ کی سواری کے لئے خچّر لایا گیا تو حضرت عبد اللّٰه ابن عباس رضی اللّٰه عنہما نے جھٹ آگے بڑھ کر رکاب تھام لی۔ یہ دیکھ کر حضرت زید رضی اللّٰه عنه نے فرمایا: اے میرے آقاﷺ کے ابن عمؓ! آپ تکلیف نہ فرمائیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللّٰه عنہما نے فرمایا: حضرت اطمینان سے بیٹھئے، علمائے دین کی اسی طرح طرح عزّت کرنی چاہیے۔

حضرت سیدنا امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمة اللّٰه علیه اپنے استاد کا اتنا ادب کرتے تھے کہ کبھی استاد کے گھر کی طرف پاؤں کرکے نہیں سوئے۔

حضرت امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ میں نے بزرگوں سے سُنا ہے کہ جو اُستاد کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا۔

امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمة اللّٰه علیه نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کرنے کے بعد ”مدرسه نصرۃ الحق“ امرتسر کا رُخ کیا جہاں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمة اللّٰه علیه کے شاگردِ رشید حضرت علامہ عبد الکبیر رینہ کشمیری رحمة اللّٰه علیه کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آپؒ کے وہاں تشریف لانے سے چند ماہ پہلے غناپورہ ہندواڑہ کے مولانا قاضی غلام حسن صاحب مرحوم بھی حلقہ درس میں شامل ہو چکے تھے۔ (مولانا قاضی صاحب نے مولانا عبد الکبیر صاحبؒ کے علاوہ مولانا حسین احمد مدنی صاحب سے بھی [دورۂ حدیث میں] استفادہ کیا ہے۔) ……. چنانچہ علامہ بخاریؒ نے ابتدائی چند اسباق کی تلافی کے لئے، جو دیر سے داخلہ لینے کے باعث رہ گئے تھے، مولانا قاضی غلام حسن صاحب کی طرف رجوع کیا، جو مدرسہ سے دو کلومیٹر دور رہتے تھے۔ قاضی صاحب فرماتے تھے کہ علامہ بخاری صاحبؒ کو بھی دورانِ تعلیم ہی یہ خیال پیدا ہوا کہ کسی نہ کسی طرح سے قاضی صاحب کو اس احسان کا بدلہ بطریقِ احسن ادا کروں۔ اِن دنوں علامہ بخاریؒ کو اہلِ امرتسر نے مسجدِ خیر الدین کا مؤذن مقرر کیا تھا۔ اذان کے عوض وہ لوگ آپؒ کو صبح کی چائے کے دو کپ اور ایک روٹی دیتے۔ علامہ بخاریؒ ایک کپ چائے اور آدھی روٹی خود کھاتے اور ایک کپ چائے اور نصف روٹی دو میل مسافت طے کرکے میرے لئے لاتے۔
(سیرۃ البخاریؒ)

تھے وہ بھی دن کہ خدمتِ استاد کے عوض
دل چاہتا تھا کہ ہدیہ دل پیش کیجیے

یہ اسلاف کا طریقہ تھا کہ جس سے ایک ہی حرف کیوں نہ سیکھا ہو، اُس کی ہمیشہ عزت کرتے اور اپنے اوپر اُن کااحسان سمجھتے۔ دورِ حاضر میں یہ چیز مفقود ہے۔ …….. ہماری حالت کو حکیم الامت علامہ اقبالؒ اس طرح بیان فرماتے ہیں ؎

بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے بِل پیش کیجیے