شہزاد اکبر کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی

اسلام آباد  اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دےد ی۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ  کیا تھا۔سماعت کے دوران درخواست گزار شہری پرویز ظہور کی جانب سے وکیل امان اللہ کنرانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ہے۔ہائیکورٹ نے شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست گزار کی استدعا مسترد کر دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد گذشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم اور صدر کو 5 مشیر تعینات کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔آرٹیکل 93 کے تحت مشیر مقرر کرنا وزیراعظم کا صوابدید ہے۔وکیل نے کہاکہ احتساب ایک آزاد ادارہ ہے وہ کسی کے ماتحت نہیں ہے، رولز آف بزنس نے احتساب کے ادارے کو آزاد رکھا ہوا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اب کیا ایسی چیز ہوئی کہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ نیب میں مداخلت کر رہے ہیں یہ عدالت ڈکلیئر کر چکی ہے کہ شہزاد اکبر وفاقی حکومت نہیں ہیں ۔امان اللہ کنرانی نے کہاکہ اینٹی کرپشن لاز سے احتساب کو الگ رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ محض ایک نام رکھ دینے سے کسی کی مداخلت ثابت تو نہیں ہو جاتی۔ وکیس نے کہاکہ غیر منتخب نمائندوں کو رکھنا آئین اور قومی اسمبلی کے رولز کے بھی خلاف ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آئینی طور پر وزیراعظم کسی کو بھی مشیر رکھ سکتا ہے ۔وکیل امان اللہ کنرانی نے کہاکہ شہزاد اکبر وفاقی کابینہ کا ممبر ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں ہو سکتے ہم نے اپنے شوگر ملز کے فیصلے میں لکھ دیا۔وکیل امان اللہ کنرانی نے کہاکہ قومی اسمبلی میں کل وفاقی وزیر کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے جواب دئیے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ وزیراعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔ انہونے کہاکہ اگر کوئی رول آف لا کا ایشو ہے تو بہتر نہیں کہ آپ اپنی بار کونسلز کے پاس لیکر جائیں، گورننس کی کمی اور قوانین کے عدم عمل درآمد کی وجہ سے بعض ایشوز پیدا ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ہمیں یہ وقت اس طرح کے معاملات میں لگانے کی بجائے عام سائلین کے لیے نہیں دینا چاہیے۔ عدالت نے سوال اٹھایاکہ کیا انہوں نے چیئرمین نیب کے معاملات میں مداخلت کی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ایف آئی اے میں مداخلت کی لیکن ایسا آپ نے کچھ ہمارے سامنے نہیں رکھا۔ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہاکہ اب دو دن سے یہ بات آرہی ہے کہ نواز شریف کو کس نے چھوڑا زراعت نے چھوڑا ہے۔ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہاکہ میں تو اس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے آیا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر وزیر اعظم نے ایک اہل شخص کو اپنا مشیر نہیں رکھا تو یہ ان کی صوابدید ہے، آپ کے لیے ہم ابزرو کر دیتے ہیں کہ نیب آزاد ادارہ ہے اس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔