اشرف صحرائی کو تحریک حریت کی قیادت کرنے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔۔۔ ترجمان تحریک حریت

سرینگر  مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموںوکشمیر نے پارٹی چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی گرفتاری اور ان پر کالے قانون ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک حریت کی قیادت کرنے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت جموںوکشمیر نے سرینگرمیں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی گرفتاریوں اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کو آزاد ی کی جدوجہد جاری رکھنے سے ہرگز نہیں روک سکتا۔بیان میں کہا گیا کہ محمد اشر ف صحرائی کو حریت کانفرنس کی تشکیل ، تحریک حریت کی قیادت کرنے اور انکے بیٹے جنید صحرائی کی حزب المجاہدین کے ساتھ وابستگی پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔( بھارتی فوجیوں نے جنید صحرائی کو کچھ عرصہ قبل سرینگر میں ایک تلاشی آپریشن کے دوران شہید کیا)۔ محمد اشرف صحرائی اس وقت جموں خطے کی ادھمپور جیل میں نظر بند ہیں ۔

تحریک حریت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ محمد اشرف صحرائی کو اپنے معالج نے کسی قسم کا تنائو نہ لینے اورلمبے سفر سے منع کیا ہے جبکہ ڈاکٹر نے انہیں تجویر کردہ ادویات بروقت لینے اور وقت پر اپنا چیک اپ کرانے کی بھی ہدات کی ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر کی ان سب ہدایات پر ادھمپور جیل میں عملدر آمد ناممکن ہے ۔ تحریک حریت نے دیگر تمام کشمیری نظر بندوں کی حالت زار پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکی رہائی کا مطالبہ کیا۔

via kms news