ٹرمپ کی بھتیجی کی یاد داشت: میری ٹرمپ کی آنے والی کتاب میں امریکی صدر کے کون سے پول کھل رہے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی ان کے بارے میں ایک بے باک اور خوشامد سے پاک یادداشت شائع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن وہ کون ہیں اور اب کیوں سامنے آئی ہیں؟

کتاب شائع کرنے والی امریکی کمپنی سائمن اور شسٹر نے سوموار کو اعلان کیا کہ میری ٹرمپ 28 جولائی کو ‘ٹو مچ اینڈ نیور اینف: ہاؤ مائی فیملی کریئٹیڈ دی ورلڈز موسٹ ڈینجرس مین’ یعنی ’میرے خاندان نے کس طرح دنیا کا سب سے خطرناک انسان پیدا کیا‘ نامی اپنی یادداشت شائع کر رہی ہیں۔

یہ کتاب ریپبلکن نیشنل کنونشن سے چند ہفتوں قبل اس وقت کتب فروشوں کی الماریوں میں ہوگی جب ان کے چچا نومبر میں دوبارہ انتخاب کے لیے پارٹی کی جانب سے نامزد کیے جا رہے ہوں گے۔

اس یادداشت میں مبینہ طور پر یہ انکشاف ہوگا کہ انھوں نے کس طرح صدر ٹرمپ کے ذاتی مالی معاملات پر جاری وسیع تحقیقات کے متعلق خفیہ دستاویزات نیویارک ٹائمز کو اشاعت کے لیے فراہم کیں۔

پولٹزر ایوارڈ یافتہ خبر میں امزام لگایا گیا تھا کہ صدر ‘پر فریب’ ٹیکس سکیموں میں ملوث تھے اور انھوں نے اپنے والد کے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے آج کی رقم میں 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی جائیداد حاصل کی۔

ایمازون پر کتاب کے متعلق جاری مختصر اشتہار میں کہا گیا ہے کہ مصنفہ اپنے چچا کے بارے میں بتائيں گی کہ کس طرح وہ ایسے آدمی بنے جو آج دنیا کی صحت، معاشی سکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

اشتہار میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ ‘وہ کتاب میں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح مخصوص واقعات اور خاندانی رویوں نے اس نقص والے آدمی کو پیدا کیا جو فی الحال اُوول آفس پر قابض ہے۔ اس کے ساتھ فریڈ ٹرمپ اور ان کے دو بڑے بیٹوں فریڈ جونیئر اور ڈونلڈ کے درمیان عجیب اور نقصان دہ تعلقات کے متعلق وضاحت بھی شامل ہے۔’

یادداشت میں صدر پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے مصنفہ کے والد کو الزائمر کے مرض میں گرفتار ہونے کے بعد بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

55 سالہ مری ٹرمپ صدر ٹرمپ کے بڑے بھائی فریڈ ٹرمپ جونیئر کی بیٹی ہیں۔ فریڈ ٹرمپ جونیئر کا سنہ 1981 میں 42 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔

وہ اپنی ساری زندگی شراب نوشی کی لت کے ساتھ لڑتے رہے اور ان کی قبل از وقت موت شراب نوشی کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اکثر اپنے بھائی کی ذاتی پریشانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہی ان کی منشیات سے نمٹنے کی کاوش کی وجہ بنے۔

گذشتہ سال واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا تھا کہ انھوں نے اپنے بھائی پر گھریلو ریل اسٹیٹ کے کاروبار میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا حالانکہ وہ اپنا پائلٹ بننے کا خواب پورا کرنا چاہتے تھے۔

چچا کے صدر بننے کے بعد میری ٹرمپ زیادہ تر شہرت کی چکاچوندھ سے دور رہیں حالانکہ وہ ماضی میں ان کی بڑی ناقد تھیں۔

دونوں کے درمیان سرد تعلقات کی کہانی کم از کم 20 سال پرانی ہے جب انھوں نے اور ان کے بھائی نے اپنے چچا اور ان کے بھائی بہنوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

سنہ 2000 میں میری ٹرمپ اور فریڈ ٹرمپ سوئم نے اپنے دادا فریڈ ٹرمپ سینیئر کی جائیداد کے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا کہ انھوں نے ان سب کے لیے کتنی جائیداد چھوڑی تھی۔

نیو یارک ڈیلی نیوز کے مطابق مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے باقی بھائی بہنوں نے سنہ 1991 میں ان کے دادا کی کمزور یادداشت اور علالت کا فائدہ اٹھا کر ان کی وصیت کو اس وقت ‘دھوکے اور ناجائز اثرورسوخ سے‘ بدلا ۔

میری ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی پھوپھیوں اور چچاؤں کو ‘خود سے شرم آنی چاہیے۔’

اُس وقت انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’خاندان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ یہ سب پیسوں کے لیے کیا گیا۔’

میری ٹرمپ اور ان کے بھائی نے اس وقت دوبارہ مقدمہ دائر کیا جب ٹرمپ کمپنی کی جانب سے انھیں فراہم کیا جانے والا میڈیکل بیمہ منسوخ کر دیا گیا جو بظاہر پہلے کی جانے والی قانونی کارروائی کا انتقام تھا۔

پیپل میگزین نے لکھا کہ عوامی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ میری لی ٹرمپ مئی سنہ 1965 میں کے طور پر پیدا ہوئی تھیں اور نیو یارک کے لانگ آئیلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔

فوربز میگزین کے مطابق انھوں نے میساچوسیٹس میں ٹفٹس یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں بیچلرز اور نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے اسی مضمون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

انھوں نے نیو یارک کی ایڈیلفی یونیورسٹی سے کلینیکل نفسیات میں پی ایچ ڈی بھی کی۔

لنکڈ ان پروفائل کے مطابق میری ٹرمپ ایک مصدقہ پیشہ ور لائف کوچ ہیں لیکن اب یہ پروفائل حذف کر دیا گیا ہے۔

سنہ 2012 میں انھوں نے مبینہ طور پر نیو یارک میں ‘ٹرمپ کوچنگ گروپ’ نام کی ایک کمپنی کی بنیاد رکھی۔

اس کی ویب سائٹ پر لکھا ہے: ‘کیا آپ افسردہ اور اداس ہیں؟ کیا آپ اپنی زندگی کا صحیح مقصد ڈھونڈ رہے ہیں؟ اگر ہاں تو ہمارے لائف کوچز آپ کو ایسے گھٹتے ہوئے نا امیدی کے حالات سے نکال سکتے ہیں۔’

ان سے منسوب ٹویٹس سے لگتا ہے کہ میری ٹرمپ اپنے چچا کے سنہ 2016 میں صدر منتخب ہونے کے دن بہت افسردہ خاطر تھیں۔

ان کے نام والے اکاؤنٹ کی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ میری زندگی کی بدترین راتوں میں سے ایک ہے۔’

ایک اور ٹویٹ میں صدارتی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والی ہلیری کلنٹن کو ‘ایک غیر معمولی انسان اور عوامی کی خدمت کرنے والی’ کہا گیا۔

ان سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کے بائیو میں ہیش ٹیگ ‘بلیک لائیوز میٹر’ کے ساتھ ہم جنس پرستوں کا پرچم اور خواتین کو ظاہر کرنے والے ضمائر یعنی شی/ہر/ہرز نظر آتا ہے۔