ملٹری سیکرٹری یا پرنسپل سیکرٹری، وزیراعظم کے دفتر میں کون زیادہ طاقتور؟

 

’وزیراعظم کو بتا دیں کہ ہم ان کے وزیر کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ ان کے ساتھ بھی ایسی ہی بدسلوکی ہوگی جیسی ہمارے افسر کے ساتھ کی گئی۔‘

آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی طرف سے یہ پیغام وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر عبدالقیوم کو ملا تو وہ سٹپٹا اٹھے۔ پیغام رساں بھی کوئی عام آدمی نہیں بلکہ آرمی چیف کے ساتھ تعینات سینیئر فوجی افسر جاوید افضل تھے۔

یہ پیغام وزیراعظم تک پہنچا یا نہیں اور اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کی تفصیل ذرا دیر میں۔

اس وقت اہم نکتہ یہ ہے کہ اس طرح کے ناخوشگوار اور بہت سے اہم قومی معاملات کے فیصلے اور خفیہ پیغامات وزیراعظم تک کیسے پہنچتے ہیں، وزیراعظم اپنے دفتری، اہم اور حساس ترین قومی معاملات انجام دینے میں کن لوگوں پر انحصار کرتے ہیں، اس مضمون میں اسی کی تفصیل بتانا مقصود ہے۔

لیکن پہلے ایک صوبائی کابینہ کے وزیر کو دی گئی دھمکی کی کہانی مکمل کرتے ہیں۔

اس کہانی کا پس منظر کچھ یوں تھا کہ 1994/95 کے موسم گرما میں صوبہ سرحد کے صوبائی وزیر تعلیم خواجہ محمد خا  ہوتی پُرفضا مقام ناران جار ہے تھے کہ راستے میں ان کے پروٹوکول سٹاف میں شامل ان کے سکیورٹی گارڈز کی ایبٹ آباد کے مقام پر سول کپڑوں میں ملبوس ایک فوجی میجر سے مڈھ بھیڑ ہوگئی۔

فوجی افسر کا سکیورٹی گارڈز سے تنازع گاڑی گزرنے کے معاملے پر ہوا اور غالباً اس کا پاؤں بھی زخمی ہوگیا۔

فوجی افسر کو سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔ اور معاملہ بڑھتے بڑھتے آرمی چیف تک جا پہنچا تو انھیں غصہ آگیا۔

ان کی طرف سے وزیراعظم بینظیربھٹو کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر عبدالقیوم کے ذریعے پیغام دیا گیا تاکہ سولین سائیڈ کو پتا ہوکہ ان کے وزیر کو اگر کوئی نقصان پہنچا تو اصل وجہ کیا ہے۔

اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر خواجہ احمد خان ہوتی بتاتے ہیں کہ ’مجھے کچھ لوگوں کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ میرا پاؤں توڑنے کے لیے لوگ گھوم رہے تھے، میں خود حیران تھا کہ اس معاملے سے میرا کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔‘

’جھگڑا میرے گارڈز کے ساتھ ہوا تھا۔ اس معاملے پر میں نے زخمی میجر سے ہسپتال میں چیف سیکرٹری اعجاز رحیم کے ہمراہ ملاقات کی تھی۔ میجر مجھ پر الزام عائد کررہا تھا مگر میرے سامنے آنے پر وہ مجھے پہچان بھی نہیں پایا تھا۔‘

افسر فوج کا اور وفاداری وزیراعظم کے ساتھ

ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر عبدالقیوم نے معاملہ وزیراعظم بینظیر کے سامنے رکھا تو وہ بھی حیران ہوگئیں۔

ظاہر ہے سیکیورٹی گارڈز کی لڑائی کی سزا ایک وزیر کو کیسے دی جاسکتی تھی؟ معاملہ حل کرنے کی ذمہ داری بھی ملٹری سیکرٹری پر عائد ہوئی تو وہ سول اور ملٹری کے درمیان ایک پل بن گئے۔

نواز شریفتصویر کے کاپی رائٹTV GRAB

چونکہ یہ معاملہ اس وقت کے صوبہ سرحد اور آج کل صوبہ خیبر پختونخوا کا تھا۔ لہذا اس وقت کے وزیراعلی آفتاب شیرپاؤ کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

وزیر کو فارغ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو وزیراعظم بینظیر اس پرناخوش ہوئیں۔

مگر وزیر کو چھٹی پر بھیجنے کے درمیانی راستے پر اتفاق کرلیا گیا۔ اس دوران وزیراعلی آفتاب شیرپاؤ نے بھی اہم کردار ادا کیا اور فریقین کی خاموشی سے صلح بھی کروا دی۔

یوں ایک معمولی سے واقعے پر سول اور ملٹری کے درمیان پیدا ہونے والا سنگین تنازع طے کرا دیا گیا۔ اس سارے معاملے میں وزیراٰعظم کے اس وقت کے سیکرٹری احمد صادق اور پرسنل سٹاف افسر آغا سراج درانی لاتعلق ہی رہے۔

کم و بیش پچیس سال قبل رونما ہونے والے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس وقت کے بریگیڈیئر اور آج مسلم لیگ ن کے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل رئٹائرڈ عبدالقیوم بتاتے ہیں کہ ’ملٹری سیکرٹری کو ایسی ذمہ داریاں اکثر ادا کرنا پڑتی ہیں۔ وہ فوجی افسر ہوتا ہے مگر تعیناتی وزیراعظم کے ساتھ ہونے کے باعث اس کی وفاداری اپنے ادارے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔‘

’لیکن ایسا اسی وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب وزیراعظم کی طرف سے اپنے ملٹری سیکرٹری پر اعتماد کیا جائے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے ان پر کیے جانے والے اعتماد کو آج بھی خوشگوار انداز میں یاد کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل رئٹائرڈ عبدالقیوم بتاتے ہیں کہ ماضی میں ملٹری سیکرٹری صرف صدور اور گورنرز کے پاس ہی ہوتے تھے۔ دراصل جب بھٹو نے آئین متعارف کروایا اور وہ خود صدر کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم بنے تو وہ اپنے ساتھ ملٹری سیکرٹری کو بھی وزیراعظم آفس لے آئے۔

تب سے ملٹری سیکرٹری وزرا اعظم کے ساتھ تو ہوتا ہے لیکن وزرا اعلی کے ساتھ نہیں ہوتا۔

ان کے خیال میں یونیفارم میں ملبوس فوجی افسر کا ایک سیاسی جماعت کے وزیراعظم کے ساتھ کام کرنا بڑا پیچیدہ اورمشکل کام ہوتا ہے۔ اسے بیک وقت وزیراعظم کے احکامات بھی بجا لانا ہوتے ہیں اورخود کو بھی تنازعات سے بچانا ہوتا ہے۔

کمزور جمہوری اقدار کے حامل پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں میں رونما ہونے والے ایسے واقعات کم ہی منظر عام پر آتے کیونکہ وزیراعظم کے سٹاف کے طور پر کام کرنے والے ایسی باتیں کرنے سے اکثر گریزاں ہی رہتے ہیں۔

وزیراعظم کیسے اور کس ماحول میں کام کرتا ہے، سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر یا پرنسپل سیکرٹری اور ملٹری سیکرٹری وزیراعظم کے ساتھ کیا ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔

پرنسپل سیکرٹری ٹو پی ایم، طاقتور ترین افسر

وزیراعظم سیکرٹریٹ میں سب سے اہم شخص عام طور پر ملٹری سیکرٹری نہیں بلکہ وزیراعظم کا سیکرٹری ہوتا ہے جسے پرنسپل سیکرٹری بھی کہا جاتا ہے۔

فواد حسن فوادتصویر کے کاپی رائٹPID

آئین کے شیڈول پانچ کے تحت وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کے وزیراعظم سے متعلقہ امور سمری کی شکل میں وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال کیے جاتے ہیں۔

سیکرٹری وزیراعظم کو ساری وزارتوں حتیٰ کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور سٹریٹجیک پلانز ڈویژن جیسے حساس ترین محکمہ جات کی سمریاں، ان اداروں میں تعیناتیوں وغیرہ کے دستاویزات کو دیکھ کر فائلیں ضروری کارروائی کے لیے پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم ان فائلوں پر ضروری احکامات جاری کرتا ہے اور عام طور پر اس حوالے سے کوئی رائے لینا ہو تو سب سے پہلی رائے سیکرٹری یا پرنسپل سیکرٹری ہی دیتا ہے۔ یہ عہدہ اتنا ہی پراناہے جتنا کے 1973 کے آئین کے مطابق وزیراعظم کا عہدہ۔

اس عہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ عام طور پر وزیراعظم کی طرف سے ملک کے عملی طور پر طاقتور ترین عہدے یعنی آرمی چیف کی تقرری کا علم بھی عام طور پر سب سے پہلے اسی شخص کو ہوتا ہے کیونکہ اسی شخص نے وزیراعظم کی طرف سے اہم اداروں کے سربراہوں کی تقرری کے احکامات متعلقہ وزارت کو ارسال کرنا ہوتے ہیں۔

پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر وہ اہم عہدیدار ہوتا ہے جسے وزیراعظم سول بیوروکریسی سےخود منتخب کرتا ہے۔

اس عہدے کے چناؤ کے لیے وزیراعظم عام طور پر ذہین اور نمایاں افسران میں سے ہی کسی ایک کو چنتا ہے۔ عام طور پر سیکرٹری بیوروکریسی کا گریڈ بیس یا اس سے اوپر کا سینیئر افسر ہوتا ہے۔

اس افسر کے اپنے کوئی اختیارات نہیں ہوتے بلکہ یہ وزیراعظم کے احکامات اور ہدایات کو متعلقہ وزارتوں تک پہنچاتا ہے۔ وزیراعظم کا بااعتماد ترین بیوروکریٹ ہونے کے ناطے اسے سرکاری مشینری میں کام کرنے والے تمام افسران پر فطری برتری حاصل ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے اعظم خان ہوں، دو سابق وزرا اعظم میاں نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کام کرنے والے فواد حسن فواد یا کوئی اور، یہ افسران دن رات وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے کے باعث اکثر ان کی کابینہ کے وزرا سے بھی زیادہ قریب ہوجاتے ہیں۔

اقتدار کے ایوانوں میں بادشاہ سے قربت تنقید اور سازشوں کے لیے زمین بھی ہموار کردیتی ہے۔ عام طور پر جو لوگ وزیراعظم سے ناخوش ہوں تو وہ براہ راست وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر پر ہی تنقید کے نشتر چلاتے ہیں۔

حالانکہ سیکرٹری تو وہی کام سرانجام دیتا ہے جو اسے وزیراعظم کہتا ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس عہدے پر براجمان شخص کی اپنی پسند نا پسند یا تعصبات نہ ہوں۔

ظاہر ہے اس عہدے پر بیٹھے افراد انسان ہوتے ہیں۔ تاہم اگر وہ اپنے کسی تعصب کے زیر اثر آئیں بھی تو اس میں بھی ذہانت کے گر آزمائے جاتے ہیں۔ انھیں وزیراعظم کی قربت کے باعث اس عہدے پر براجمان شخص کی انسانی کمزوریوں کا بھی علم ہوتا ہے جسے وہ آسانی سے استعمال کرنے کا موقع بھی رکھتے ہیں۔

اعظم خان اور جہانگیر ترین

عمران خان، جہانگیر ترین

اپریل کے پہلے ہفتے چینی اور آٹا کے بارے میں انکوائری کمشن کی ابتدائی رپورٹ آئی تو اس میں وزیراعظم عمران خان کے بعد تحریک انصاف میں سب سے زیادہ موثر شخصیت سمجھے جانے والے جہانگیرترین کا نام بھی سامنے آیا۔

جس کے بعد وزیراعظم آفس میں اس وقت تک بغیر کسی باضابطہ نوٹیفیکیشن کے کام کرنے والے شہباز گل نے جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس سے ہٹانے کا اعلان بھی کیا۔

انکوائری کمشن رپورٹ پر ابتدائی ردعمل دیتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے اپنے خلاف کارروآئی کا اصل ذمہ داری وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو قراردیا۔

اس کے بعد میڈیا کے اندر وزیراعظم کے سیکرٹری کے حوالے سے بحث بھی چلی کہ کیا اعظم خان جہانگیر ترین کے خلاف کوئی ذاتی رنجش کے تحت ’کارروائی‘ کر رہے ہیں؟ یا اپنے باس یعنی وزیراعظم عمران خان کی منشا کے تحت کام کر رہے ہیں؟

وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور ان کے قریبی سمجھے جانے والے دوست جہانگیر ترین میں دوریاں پیدا ہو چکی ہیں اور اس سارے معاملے میں اعظم خان کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

جہانگیر ترین البتہ بضد رہے کہ ان کے خلاف چینی سکینڈل کے تحت ہونے والی کارروائی کے پیچھے اعظم خان اور ان کی ذاتی خواہشات کا عمل دخل ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے اسرار و رموز سے واقف لوگ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

پرنسپل سیکرٹری وہی کچھ کرتا ہے جو اسے وزیراعظم کہتا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ عام طور پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اصول کی بات کرتا ہے۔ وہ وزیراعظم کے حکم سے ہٹ نہیں سکتا۔ وزرا بعض کام وزیراعظم کے پاس لے کر آتے ہیں تو ان کی فائلیں پہلے سیکرٹری کے پاس جاتی ہیں جس پر سیکرٹری بعض اوقات منفی ریمارکس بھی لکھ دیتا ہے۔ لہذا ایسی صورت میں متعلقہ وزرا کو پسند بھی نہیں آتا۔

پارٹی رہنما اور وزرا وزیراعظم پر تو تنقید نہیں کرتے لیکن وہ وزیراعظم کے سیکرٹری پر تنقید کر دیتے ہیں حالانکہ وزیراعظم کا سیکرٹری وہی کچھ کرتا ہے جو اسے وزیراعظم کہتا ہے۔

نواز شریفتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں ان کے داماد کیپٹن رئٹائرڈ صفدر نے بھی قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہوکر پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا مگر عملی طور پر وہ پرنسپل سیکرٹری کا شاید بال بھی بیکا نہ کرسکے کیونکہ وزیراعظم نوازشریف بدستور اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ کھڑے رہے۔

شاید یہی وجہ تھی کے برطرفی کے بعد نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو بھی فواد حسن فواد کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی اور یوں فواد حسن فواد دو وزرا اعظم کے ساتھ جمے رہے۔

اس حوالے سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ دراصل کیپٹن صفدر فواد حسن فواد کے پاس اپنے حلقے میں کسی منصوبے کی فائل لائے تھے جس پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر نے کوئی منفی نوٹ لکھ دیا جس پر کیپٹن صفدر معاملہ پبلک میں لے گئے۔

وہ ایسا نہ کرتے تو اچھا ہوتا کیونکہ ایسا چلتا رہتا ہے۔ عباسی کے مطابق فواد حسن فواد بہترین سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر تھے جو میرٹ اور قوائد کا خیال رکھتے۔

عام طور پر سیکرٹری اپنے جونیئرز کو وزیر اعظم کے پاس نہیں بھیجتے لیکن فواد اس روایت کے برعکس اپنے جونیئرز سے بھی بعض معاملات میں وزیراعظم کو بریفنگ دلاتے۔ دراصل وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بہترین اور ذہین افسران تعینات کرنے پر یقین رکھتے تھے۔

ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری میں پیشہ وارانہ رقابت

جہاں وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے والا سیکرٹری اس کا چہیتا ہوتا ہے وہیں ملٹری سیکرٹری بھی فوج کا نمایاں افسر ہوتا ہے۔

اسے اپنے ادارے کا مان ہوتا ہے کیونکہ اس کا نام فوج کے ملٹری سیکرٹری ونگ کی طرف سے وزیراعظم کو ایک تین رکنی پینل کے ذریعے موصول ہوتا ہے۔

وزیراعظم انٹرویو کے بعد اپنا ملٹری سیکرٹری چنتے ہیں۔ ملٹری سیکرٹری کی ذمہ داری وزیراعظم سے ملنے والے لوگوں کو ٹاِئم دینا، وزیراعظم کے ملکی و غیر ملکی دوروں کا اہتمام کرنا، وزیراعظم کے خاندان کو معاونت فراہم کرنا اور مقامی و بین الاقوامی رہنماؤں کے وزیراعظم سے فون پر روابط کو دیکھنا ہوتا ہے۔

مگر اکثر یہ افسر وزیراعظم کے ساتھ فوجی امورپر بھی تبادلہ خیال کرتا ہے اور اپنا مشورہ دیتا ہے۔

جب بیوروکریسی اور فوج کے دو قابل افسران ملک کے طاقتور ترین شخص یعنی وزیراعظم کے ساتھ کام کریں تو بعض اوقات باہمی رقابت بھی آڑے آجاتی ہے۔

ایسا ہونا فطری بھی ہے۔ اس حوالے سے جب سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ساتھ ان کے دوسرے دورے حکومت یعنی 1997 سہ 1999 تک کام کرنے والے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا، جو انھی کی زبانی پیش خدمت ہے۔

’میاں نوازشریف دوسرے دور حکومت میں وزیراعظم تعینات ہوئے تو مجھے پرنسپل سیکرٹری تعینات کرلیا۔ پرنسپل سیکرٹری چونکہ وزیراعظم کے تمام دفتری امور اور فائلوں کا کام سرانجام دیتا ہے اس لیے اکثر مجھ سے معمول کی بات چیت ہوتی تھی۔ دوسری طرف ملٹری سیکرٹری وزیراعظم کے تمام دوروں، ملاقاتوں، دعوتوں وغیرہ کے امور طے کرتا ہے اس لیے اس کا کام ہم سے الگ ہی ہوتا ہے۔ ہمارے کام الگ الگ ہوتے ہیں لیکن ہم اکٹھے ایک ہی جگہ یعنی وزیراعظم کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔‘

’میں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو وزیراعظم کے ساتھ پہلے سے تعینات ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر صباحت سے ابتدا میں میری کوئی بن نہ پائی۔ ایک روز وزیراعظم نے ریڈیو پاکستان کسی تقریب میں جانا تھا تو گاڑی میں بیٹھتے وقت مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے اور ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر صباحت کو دوسری گاڑی میں آنے کا حکم دیا۔ عام طورپر ملٹری سیکرٹری ہی وزیراعظم کے ساتھ باہر جاتے ہیں وہ دن ذرا معمول سے ہٹ کر تھا۔ گاڑی میں ہماری بات چیت ہوئی اور میں معمول کے مطابق واپس دفتر آگیا۔‘

’ملٹری سیکرٹری وزیراعظم کے ہمراہ تقریب مکمل کر کے واپس آ کر مجھ سے ملے اور کہا کہ جناب، ایسے نہیں چل سکتا۔ بولے ہمارے پاس وزیراعظم سے بات چیت کا موقع ہی یہ ہوتا ہے اس میں بھی آپ ان کے ساتھ جابیٹھتے ہیں۔ میں نے ملٹری سیکرٹری کو بتایا کہ مجھے وزیراعظم نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم وہ بولے کہ ایسا ہوتا رہا تو ہم اکٹھے کام نہیں کرسکتے۔‘

’ملٹری سیکرٹری کی یہ بات میں نے فوری وزیراعظم کے گوش گزاری تو انھوں نے مجھے کہا کہ آپ برا مت منائیں ویسے بھی ملٹری سیکرٹری اپنی مدت پوری کر کے جانے والے ہیں۔ تاہم میاں صاحب نے ملٹری سیکرٹری کو بلایا اور انھیں بتایا کہ سعید مہدی سے میں نے کوئی اہم بات کرنا تھی اسی لیے اسے گاڑی میں ساتھ بٹھایا۔ آپ اس بات کا برا نہ منائیں۔ وزیراعظم نے ہماری صلح صفائی کروائی اور ہم بغل گیر ہوگئے۔‘

سعید مہدی کے مطابق ’سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اور ملٹری سیکرٹری کے درمیان باہمی رقابت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی۔ ایک کے پاس اختیارات تو دوسرے کے پاس وردی کی طاقت ہوتی ہے۔‘ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہوتے ہیں تو بعض معاملات میں رقیب بھی۔

وزیراعظم کے سیکرٹری کے نیچے کم و بیش دو سے کے قریب ایڈیشنل سیکرٹریز درجن بھر جوائنٹ سیکرٹریز اور سیکشن آفیسرز کام کرتے ہیں جبکہ ملٹری سیکرٹری کے ہمراہ کرنل کی سطح کا ڈپٹی ملٹری سیکرٹری، بحریہ، فضائیہ اور فوج کے کیپٹن کی سطح کے افسران بطور اے ڈی سیز، چیف سکیورٹی آفیسر وغیرہ بھی ملٹری سیکرٹری کے معاون کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے ذاتی نوعیت کے کام کون کرتا ہے؟

وزیراعظم کے ساتھ ایک تیسرا اہم شخص بھی کام کرتا ہے ۔

یہ سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اور ملٹری سیکرٹری کے بعد انتہائی اہم شخص ہوتا ہے اسے پرسنل سٹاف آفیسر ٹو پرائم منسٹر کہتے ہیں۔

عام طور پر یہ پی ایس او ایک سے تین تک کی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ پی ایس او عام طور پر وہ شخص ہوتا ہے جو وزیراعظم اپنے ساتھ لاتے ہیں یہ نجی شخص ہوتا ہے جسے عارضی بنیادوں پر وزیراعظم کے ہمراہ کنڑیکٹ پر تعینات کیا جاتاہے۔

اس کا کام وزیراعظم کے ذاتی دوستوں، خاندان اور سیاستی نوعیت کے کام کرنا ہوتا ہے۔

وزیراعظم اپنے سیکرٹری کو اہمیت دیں یا ملٹری سیکرٹری کو، پرسنل سٹاف آفیسر اہم ہو یا کوئی اور، یہ بات طے ہے کہ وزیراعظم اپنا سٹاف طے کرتے وقت دراصل ان افراد کا چناؤ کرتا ہے جو اس کی وزارت عظمی کے دوران اس کی عزت یا بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جن سے وزیراعظم بعض امور پر فوری بنیادوں پر مشاورت بھی کررہا ہوتا ہے۔

اگر ان میں کوئی کمزوری ہو تو وزیراعظم کو ملنے والی مشاورت اور اس کی روشنی میں کیے جانے والے فیصلے بھی کمزور ہوتے ہیں۔ جیسی شخصیت وزیراعظم کی ہوتی ہے عام طور پر ویسا ہی انتخاب وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کا کرتا ہے اور پھر ان سب کو اکٹھے ساتھ لے کر چلنا اسی کا کام ہوتاہے۔

سعید مہدی اور لیفٹیننٹ جنرل رئٹائرڈ عبدالقیوم اس بات پر متفق ہیں کہ ’وزرائے اعظم اگر اپنے اردگرد ایسے بندوں کو رکھیں جو انھیں اچھے برے کے بارے میں بتائیں، غلطی کرنے سے روکیں تو وزرا اعظم کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وہ تنازعات سے بچ کر اپنا کام موثر انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔‘

لیکن اقتدار کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ اس کے کانوں کو تعریف اور چاپلوسی ہی اچھی لگتی ہے۔ تنقید اور روک ٹوک کرنے والے عام طور پر اقتدار کی راہداریوں سے بے آبرو ہو کر نکالے جاتے ہیں۔

via bbc