بھارت کی نام نہاد مردم شماری ذاتی معاملات میں بے جا مداخلت ہے: حریت رہنما

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے بھارت کی  خود ساختہ مردم شماری 2024 کومسترد کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے ذاتی معاملات میں بے جا مداخلت قرار دیا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں غلام محمد خان سوپوری، سید بشیر اندرابی، یاسین عطائی، خواجہ فردوس، یاسمین راجہ، حفظہ بانو، محمد یوسف نقاش، ایڈووکیٹ ارشد اقبال، امتیاز ریشی اور مولانا مصعب ندوی نے سرینگر میں جاری اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ مردم شماری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جن میں اپنی سرزمین پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف کشمیری عوام کے مزاحمت کے حق کو تسلیم گیا ہے۔حریت رہنمائوں نے تاریخی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں 1947سے بھارت کے اقدامات خاص طور پر اس کا جبر اور غیر قانونی قبضہ ناقابل قبول ہے۔انہوں نے گرفتاریوں، جعلی مقابلوں اور املاک کی ضبطی سمیت کئی دہائیوں سے جاری ظلم و ستم کے باوجودبھارت سے مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیری عوام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔حریت رہنمائوں نے مردم شماری میں آبادی کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کو اجاگرکرتے ہوئے اسے علاقے میں آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش قراردیاتاکہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل اور ان کی سیاسی نمائندگی کو متاثر کیاجائے۔ انہوں نے بھارتی جیلوں میںنظربندحریت رہنمائوں، کارکنوں اورنوجوانوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔