مقبوضہ کشمیر :قابض انتظامیہ نے کشمیریوں کو انکی زمینوں سے بے دخلی کی مہم تیز کر دی

سرینگر 19جنوری () غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے کشمیریوں کو انکی زمینوں سے بے دخلی کی مہم کو مزیدتیز کر دیا ہے جہاں وہ کئی نسلوں سے آباد ہیں۔
قابض انتظامیہ تجاوزات ہٹانے کی نام نہاد مہم کے نام پر کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں کشمیریوں کوسرکاری نوٹسزبھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں ان سے سات دن کے اندرزمینیں خالی کرنے کیلئے کہا گیا ہے بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔بدھ کو کپواڑہ، بارہمولہ اور شوپیاں کے اضلاع میں کشمیریوںکو300 کنال سے زائد اراضی سے بے دخل کر دیاگیا ہے ۔ اس کے علاوہ بڈگام میں بھی انسداد تجاوزات کی نام نہادمہم جاری ہے ۔ضلع کپواڑہ کے علاقے ڈرگ ملہ میں 276 کنال اراضی کشمیریوں سے خالی کرائی گئی ہے ۔ ضلعی حکام نے کہا ہے کہ کپواڑہ کے تمام حصوں میں بھی کشمیریوں کی بے دخلی کی مہم جاری ہے۔بارہمولہ ضلع میں رفیع آباد کے علاقے بٹ پورہ میں مہم کے دوران 35کنال اراضی کشمیریوں سے خالی کرائی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ضلع کی تمام تحصیلوں میں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی بے دخلی مہم شروع ہونے کے بعد سے 2ہزار145کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ شوپیاں ضلع کے علاقوں درامدور اور دیارو میں14کنال اراضی خالی کرائی گئی ہے ۔قابض حکام نے وادی کے دیگر اضلاع میں بھی کشمیریوں کو 7دن میںاراضی خالی کرنے کے نوٹس جاری کئے ہیں۔کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ ان ظالمانہ اقدامات کے ذریعے مودی حکومت ایک منظم طریقے سے غیر کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے منظم طریقے سے آباد کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں سے زمینیں چھیننے کے بعد مودی حکومت اس پر اپنے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے ہائوسنگ کالونیاں بھی بنا رہی ہے۔