اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکنے میں کردار ادا کرے۔الطاف احمد بٹ

اسلام آباد، 20 ستمبر: اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کو بچانے کیلئے مداخلت اورمودی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکنے میں کردار ادا کرے۔

جموں و کشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین الطاف احمد بٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے قیام سے ہی التوا کا شکار ہے۔ بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے لاکھوں کشمیری اپنی جانیں، گھر، جائیداد اور جوانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

نیویارک میں جاری 77ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پر زور اپیل کرتے ہوئےالطاف احمد بٹ نے کہا کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور پرامن جنوبی ایشیا کے لیے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے فیصلہ کن منصوبہ وضع کرے ۔اس لیے وہ بھارت کو مجبور کریں کہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کے خاتمے کرنے سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر سے اپنی قابض افواج واپس بلائے اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق استصواب رائے شروع کروائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر 1989 سے لیکر اب تک قابض بھارتی افواج نے ظلم و ستم کی حدیں پار کر دی ہیں۔ بھارتی قابض افواج نے 96,114 سے زائد بے گناہ افراد کو شہید کیا ہے جن میں سے 7,254 کو حراست میں شہید کیاگیا ہے، 165,120 شہری گرفتار کیے گئے ہیں، 110,490 مکانات کو تباہ کردیا گیا، 22٫950 خواتین کو بیوہ، 107,880 بچوں کو یتیم اور 11,25 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

الطاف احمد بٹ نے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ مسئلہ کشمیر جو کہ تین طاقتور ایٹمی ریاستوں پاکستان، بھارت اور چین سے گھرا ہوا نیوکلیر فلیش پوائنٹ ہے، اور خطے کے امن و سلامتی کیلئے لازم و ملزوم ہے کہ یہ مسئلہ سہ فریقی ڈائلاگ کے ذریعے جلد از جلد حل کیا جائے۔