سنگتروں کے چھلکوں سے جنگل ہرا بھرا ہو گیا

سنگتروں کے چھلکوں سے جنگل ہرا بھرا ہو گیا

جنگل میں کوڑا پھیلانا ماحولیاتی مسئلے کا ممکنہ حل نہیں ہو سکتا لیکن جنوبی امریکہ کے ملک کوسٹا ریکا میں بالکل ایسا ہی ہوا.

سنہ 1990 کی دہائی میں ملک کے شمال میں واقع گونا کاسٹا کے جنگلات میں ایک ہزار ٹرکوں نے سنگتروں کے بارہ ہزار ٹن چھلکے اور گودے کا کچرا پھینکا۔

دو دہائیوں کے بعد وہاں کچھ ایسا ہوا جس نے لوگوں کو حیران کر دیا۔

پرنسٹن یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے سنہ 2013 میں اس جگہ کا دورہ کیا اور انھیں علم ہوا کہ وہاں بائیو ماس میں 176 فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔

تین ایکڑ وسیع یہ علاقہ جو کبھی بنجر پڑا تھا وہ ایک ہرے بھرے گھنے جنگل میں بدل چکا تھا۔

رسیلا سودا
لیکن یہ سب ہوا کیسے؟ یہ جنگل بچانے کا ایک انقلابی تجربہ تھا۔

سنہ 1996 میں یونیورسٹی آف پینلسوینا کے ماحولیات کے ماہرین ڈینیل جیزن اور ونی ہالواچ جو کوسٹا ریکا کے ماحولیات کے ادارے میں مشاورت کا کام کر رہے تھے انھوں نے ’ڈل اورو‘ نامی جوس بنانے والی کمپنی سے رجوع کیا جس کے پلانٹ ان جنگلات کے قریب ہی واقع تھے۔
انھوں نے ’ڈل اورو‘ کمپنی کے ساتھ ایک سودا کیا اور انھیں اپنے پلانٹ کا کچرا جس میں سنگتروں کے چھلکے اور بچا کچھ گودا شامل تھا اور جس سے جان چھڑانا کمپنی کے لیے ایک درد سر بنا ہوا تھا اسے اس وسیع و عریض زمین پر ڈالنے کی اجازت دی جہاں سے جنگلات ختم ہو رہے تھے۔

جزان اور ہالواچ کا خیال تھا کہ پھلوں کے چھلکوں اور کچرے کے گلنے اور سڑنے سے جنگلات کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

متاثرکن نتائج

جس جگہ پر سنگتروں کے چھلکے پھینکے گئے تھے اور وہ جگہ جہاں یہ نہیں پھینکے گئے ان دونوں کا جائزہ لینے کے بعد سنگتروں کے چھلکوں نے کھاد کا کام کیا اور زمین کو زرخیز کر دیا۔

اضافی بائیو ماس جس جگہ ڈالا گیا وہاں کی زمین زیادہ زرخیز ہو گئی، وہاں مختلف اقسام کے درخت نکل آئے اور ان کا سایہ بھی زیادہ تھا سادہ الفاظ میں یہ علاقہ زیادہ سر سبز اور شاداب ہو گیا۔

سنگتروں کے چھلکے اور کوڑا جنگلات کو بچانے کا آسان، سستا اور موثر طریقہ ثابت ہوا۔

گونا کاسٹ منصوبہ شروع کیے جانے کے چند سال بعد ہی بند کرنا پڑا اور یہ بات مد نظر رکھتے ہوئے نتائج کو دیکھیں تو وہ اور زیادہ متاثرکن لگتے ہیں۔

سنہ 1998 میں ’ڈل اورو‘ اور ’اے سی جی‘ کے درمیان اشتراک کے خلاف ایک دوسری کمپنی ’ٹیکوفرٹ‘ نے عدالت سے رجوع کیا۔

اس کمپنی نے ’ڈل اورو‘ پر دیگر الزامات کے علاوہ جنگلات کا علاقہ جسے محفوظ بنانے کے لیے نیشنل پارک میں شامل کر لیا گیا تھا اس کو تباہ کرنے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔

کوسٹا ریکا کی سپریم کورٹ نے سنہ 2000 میں اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ’ڈل اورو‘ اور ماحولیات اور توانائی کی وزارت کے درمیان اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دیا۔

جزان اور ہلواچ وقت گزرنے کے بعد درست تو ثابت ہو گئے لیکن انھوں نے اس پر کوئی خوشی نہیں منائی۔

ان امریکی ماہرین نے اس منصوبے کو گھنے جنگلات میں زیادہ مدافعت پیدا کرنے کے ایک تجربے کے طور پر دیکھا۔

جزان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دسویں ہیکٹر کا تازہ جنگلات سے بھرا علاقہ جنگل کی آگ کے سامنے ایک فصیل کے طور پر اگانا چاہتے تھے۔

جنگل کی آگ گرم علاقوں کے مرطوب جنگلات میں نہیں بھڑکتی بلکہ چراگاہوں اور جھاڑیوں سے بھرے جنگلات میں زیادہ بھڑکتی ہے۔

گھنے جنگلات میں آگ نہیں لگتی وہ بہت زیادہ مرطوب ہوتے ہیں۔ جن جگہوں پر جنگلات دوبارہ اگائے جاتے ہیں وہاں بھی آگ نہیں بھڑکتی۔
اس علاقے کی مٹی کے نمونوں سے پتا چلا کہ جس جگہ سنگتروں کا کچرا ڈالا گیا تھا وہ دو سال کے اندر ہی بہت زرخیز ہو گئی تھی۔

جزن نے کہا کہ جس جگہ کچرا ڈالا گیا تھا اس جگہ آج بہت ہرا بھرا صحت مند جنگل قائم ہے اور اس کے ساتھ ہی جس علاقے کو اس تجربے سے الگ رکھا گیا وہ اب بھی اسی طرح بے آب و گیا ہے جس طرح وہ صدیوں سے تھا۔

مکھیوں کا رقص
یہ کیونکر ممکن ہوا؟ سنہ 2013 میں اس جگہ کا دورہ کرنے والی پرنسٹن یونیورسٹی کی ٹیم کے سربراہ ٹموتھی ٹروئر نے اسے مذاق میں مکھیوں کا رقص قرار دیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نامیاتی کچرے پر جب مکھیاں اور حشرات آتے ہیں تو اسے گلنے اور سڑنے میں مدد ملتی ہے جس سے گھاس پھونس مرجاتی ہے اور مٹی زرخیز ہو جاتی ہے۔

پرنسٹن کے ماہرین نے مزید کہا کہ مقامی نباتات کو اس جگہ پھر سے اگنے کا موقع ملاتا ہے اور ماحولیاتی اعتبار سے یہ ان کے لیے بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔

سائنسی لحاظ سے یہ طریقہ سادہ اور آسان ہے۔

ٹروئر نے کہا کہ یہ انتہائی آسان ہے، غذائیت سے بھر نامیاتی کچرا لیں اور ایسی جگہوں پر ڈال دیں جہاں سے جنگلات، زمین خراب ہونے اور جھاڑیاں اگنے سے ختم ہو رہے ہوں۔

لیکن قانونی جنگ سے ایک غلط مثال قائم ہوئی۔

جب جزان سے پوچھا گیا کہ اس تجربے سے انھوں نے کیا سیکھا تو وہ زیادہ پرامید نظر نہیں آئے۔

انھوں نے کہا کوئی منصوبہ چاہیے کتنا بھی سود مند نہ ہو کسی نہ کسی سماجی عنصر کی خواہش کی نظر ہو جاتا ہے۔ ’قدرتی مسائل سے نمٹنا اتنا مشکل نہیں ہوتا اور ان کے حل کے لیے کام کرنے دیا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ جنگلات کی بحالی کی راہ میں ایک بڑا مسئلہ ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے جو جنگلات بحال کرنا چاہتا ہو۔ انھوں نے کہا کہ یاد رکھیں جنگلات کی کٹائی کسی وجہ سے ہوتی ہے یہ وجہ ختم کرنا ہو گی تاکہ جنگلات دوبارہ اگ سکیں۔

بی بی سی نے ٹیکوفرٹ نامی کمپنی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ٹیکوفرٹ نے اپنے مقدمے میں پہلے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ گوناکاسٹا کا منصوبہ اس لہذا سے ناانصافی پر مبنی ہے کہ ڈیل اورو کمپنی کو کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے پلانٹ لگانے کے لیے نہیں کہا گیا جب کہ ٹیکو فرٹ کو یہ کہہ کر مجبور کیا گیا تھا کہ سنگتروں کے کچرے سے دریا کا پانی آلودہ ہو رہا ہے۔

ٹیکو فرٹ نے دعوی کیا کہ ڈیل اورو کے کچرے سے آلودگی پھیل رہی ہے جو قریبی دریا کو بھی متاثر کر رہی ہے اس کے علاوہ اس کچرے سے کیڑے مکوڑے اور جراثیم پیدا ہو رہے ہیں جن سے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ جزان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

مقدمہ بازی
ڈینیل جزان کا کہنا ہے کہ ایک ماہر کے کہنے پر ٹیکو فرٹ نے ڈل آورو کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا اور اس مشورے کا اس نے بھاری معاوضہ لیا ہو گا۔

ٹروئر نے بھی اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ سائنسدانوں کے لیے بہت مایوس کن ہوتا ہے جب بڑے مسائل کے ممکنہ حل کی راہ میں بے بنیاد خدشات حائل ہو جاتے ہیں اور خاص طور پر جب ایسے خدشات کے پیچھے کاروباری مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔
بی بی سی نے ٹیکوفرٹ نامی کمپنی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ٹیکوفرٹ نے اپنے مقدمے میں پہلے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ گوناکاسٹا کا منصوبہ اس لہذا سے ناانصافی پر مبنی ہے کہ ڈیل اورو کمپنی کو کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے پلانٹ لگانے کے لیے نہیں کہا گیا جب کہ ٹیکو فرٹ کو یہ کہہ کر مجبور کیا گیا تھا کہ سنگتروں کے کچرے سے دریا کا پانی آلودہ ہو رہا ہے۔

ٹیکو فرٹ نے دعوی کیا کہ ڈیل اورو کے کچرے سے آلودگی پھیل رہی ہے جو قریبی دریا کو بھی متاثر کر رہی ہے اس کے علاوہ اس کچرے سے کیڑے مکوڑے اور جراثیم پیدا ہو رہے ہیں جن سے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ جزان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

مقدمہ بازی
ڈینیل جزان کا کہنا ہے کہ ایک ماہر کے کہنے پر ٹیکو فرٹ نے ڈل آورو کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا اور اس مشورے کا اس نے بھاری معاوضہ لیا ہو گا۔

ٹروئر نے بھی اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ سائنسدانوں کے لیے بہت مایوس کن ہوتا ہے جب بڑے مسائل کے ممکنہ حل کی راہ میں بے بنیاد خدشات حائل ہو جاتے ہیں اور خاص طور پر جب ایسے خدشات کے پیچھے کاروباری مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔