کرکٹ میں ننانوے سے نو سو ننانوے تک کا کرب

کرکٹ میں ننانوے سے نو سو ننانوے تک کا کرب

دنیا کا کوئی بھی بلے باز صفر پر آؤٹ ہونا نہیں چاہتا۔ لیکن اگر وہ صفر کی خفت سے بچ کر کسی دوسرے ہندسے سے خود کو بچانا چاہتے ہیں تو وہ عموماً ننانوے (99) ہوتا ہے۔

کرکٹ کی تاریخ میں ان گنت بلے باز ننانوے کے سحر میں جکڑے جا چکے ہیں۔ جو اس سے بچ نکلے تو ایک سو ننانوے اور دو سو ننانوے یہاں تک کہ چار سو ننانوے پر آکر جکڑے گئے۔

درحقیقت یہی آنکھ مچولی کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔

’سکور بورڈ کی غلطی‘ سے 499 پر آؤٹ
لٹل ماسٹر حنیف محمد کے 499 رنز کا 35 سال تک فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ رہا جسے ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے توڑا لیکن حنیف محمد ہمیشہ اس بات کا ذکر کیا کرتے تھے کہ وہ سکور بورڈ کی غلطی کی وجہ سے پانچ سو رنز مکمل نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیے
دس بڑے کھلاڑی جو کرکٹ کا عالمی کپ نہ جیت سکے

کوہلی سات ڈبل سنچریاں بنانے والے پہلے انڈین کھلاڑی

کاش عامر مظہر مجید سے نہ ملے ہوتے
حنیف محمد کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں سکور بورڈ پر ہندسے ہاتھ سے تبدیل ہوا کرتے تھے۔

انھوں نے دیکھا کہ سکور بورڈ پر چار سو چھیانوے درج ہیں اس وقت دن کا کھیل ختم ہونے میں دو گیندیں باقی تھیں تو انھوں نے سوچا کہ وہ پانچویں گیند پر دو رنز لے کر سٹرائیک اپنے پاس رکھیں تاکہ چھٹی گیند پر مزید دو رنز لے کر 500 مکمل کر لیں۔

لیکن پانچویں گیند پر وہ دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوگئے۔ آؤٹ ہو کر پویلین کی طرف جاتے ہوئے انھوں نے سکور بورڈ پر دیکھا تو چار سو ننانوے رنز لگے ہوئے تھے۔

تو اصل میں جب آخری دو گیندوں پر وہ 500 رنز بنانے کی حکمت عملی بنا رہے تھے تو ان کا درست سکور 498 تھا۔

تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر سکورر نے پہلے صحیح سکور لگایا ہوا ہوتا تو وہ آخری گیند پر بھی دو رنز بنا کر پانچ سو رنز مکمل کر سکتے تھے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں 999 وکٹیں
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف تین بولرز ایسے ہیں جن کے ٹیسٹ کریئر کا اختتام اس طرح ہوا کہ وہ اپنی وکٹوں کی سنچری مکمل نہ کرسکے۔ ان میں آسٹریلوی سپنر آرتھر میلی، آسٹریلوی فاسٹ بولر بین ہلفن ہاس اور پاکستانی سپنر عبدالرحمن ہیں۔

لیکن پاکستان کے سابق لیفٹ آرم سپنر اقبال قاسم اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 999 وکٹوں کے ساتھ اپنا کریئر ختم کیا۔

اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ان کی فرسٹ کلاس وکٹیں 999 سے یقیناً زیادہ ہیں لیکن چونکہ انھوں نے اپنے ابتدائی کریئر میں محمد اقبال کے نام سے کرکٹ کھیلی تھی لہذا وہ وکٹیں ان کے فرسٹ کلاس ریکارڈ میں شامل نہیں ہوسکیں۔

اولین ٹیسٹ میں 99 پر آؤٹ ہونے کا دکھ
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف تین بیٹسمین ایسے ہیں جو اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری کا اعزاز صرف ایک رن کی کمی سے حاصل کرنے سے رہ گئے۔

ان میں آسٹریلیا کے آرتھر چپر فیلڈ، ویسٹ انڈیز کے رابرٹ کرسٹیانی اور پاکستان کے عاصم کمال شامل

چپر فیلڈ اور کرسٹیانی بعد میں سنچری بنانے میں کامیاب ہوگئے لیکن عاصم کمال کو سنچری بنانے کا موقع نہ مل سکا۔

ٹیسٹ میچوں کی سنچری مکمل نہ ہوسکی
بھارت کے سابق کپتان محمد اظہرالدین وہ واحد کرکٹر ہیں جن کا ٹیسٹ کریئر 99 میچوں پر اختتام کو پہنچا جس کا سبب میچ فکسنگ سکینڈل میں ان کا ملوث ہونا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد اظہرالدین جنہوں نے اپنے پہلے تین ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنائی تھیں اپنے آخری ٹیسٹ میچ میں بھی سنچری بنانے میں کامیاب رہے تھے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں 199 سنچریاں
فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچریوں کی سنچریاں بنانے کا اعزاز اب تک صرف 25 بلے بازوں کو حاصل ہوا ہے۔

سر جیک ہابس سنچریوں کی ڈبل سنچری مکمل کرنے سے رہ گئے تھے
اس فہرست میں انگلینڈ کے سر جیک ہابس کا نام سب سے اوپر ہے لیکن قسمت دیکھیے کہ ان کا کریئر جب ختم ہوا تو وہ 199 سنچریاں بنا چکے تھے۔

صرف ایک سنچری کی کمی سے وہ سنچریوں کی ڈبل سنچری مکمل کرنے سے رہ گئے۔

’نروِس نائنٹیز‘ کے شکار بلے باز

کئی کرکٹرز نروِس نائنٹیز کا شکار بھی رہے ہیں۔ یہ ایسے بلے باز ہیں جو سنچری کے قریب نوے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کے سابق کپتان سٹیو وا اپنے کریئر میں 10 مرتبہ نروِس نائنٹیز میں آؤٹ ہوئے
ان میں سر فہرست سٹیو وا، راہل ڈراوڈ اور سچن تندولکر ہیں جو 90 سے 100 کے درمیان سکور پر 10 مرتبہ آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق ون ڈے کرکٹ میں 42 نصف سنچریوں کے باوجود کبھی اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے۔ وہ دو مرتبہ نروِس نائنٹیز میں ناٹ آؤٹ رہے۔

بریڈمین کی بیٹنگ اوسط 100 کیوں نہ ہو پائی؟
اگر نروس نائنٹیز کی ہی بات کی جائے تو آسٹریلیا کے عظیم بلے باز سر ڈان بریڈمین اپنے کریئر میں کبھی 90 سے 100 کے درمیان کے سکور پر آؤٹ نہیں ہوئے۔ وہ 90 کے سکور پر پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے ہمیشہ اپنی سنچری مکمل کر لیا کرتے تھے۔

بریڈمین کی بیٹنگ اوسط اب بھی ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی بلے باز کی سب سے اچھی بیٹنگ اوسط ہے
لیکن جب وہ اپنی آخری ٹیسٹ اننگز کھیلنے کے لیے اوول کے میدان میں آئے تو انھیں ٹیسٹ کرکٹ میں سات ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف چار رنز درکار تھے۔

اگر وہ ایسا کر لیتے تو ان کے ٹیسٹ کریئر کی بیٹنگ اوسط 100 ہو جاتی جو ایک منفرد بات ہوتی۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ بریڈمین کو دوسری ہی گیند پر لیگ سپنر ایرک ہولیز نے صفر پر بولڈ کر دیا۔

اس طرح وہ نہ صرف اپنے سات ہزار رنز مکمل کرنے سے رہ گئے بلکہ ان کے ٹیسٹ کریئر کا اختتام 99.94 کی بیٹنگ اوسط پر ہوا۔

لیکن یاد رہے کہ 20ویں صدی کے عظیم بلے باز بریڈمین کی بیٹنگ اوسط اب بھی ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی بلے باز کی سب سے اچھی بیٹنگ اوسط ہے۔