ٹک ٹاک کے سکیورٹی نقائص جو دور کر لیے گئے

ٹک ٹاک کے سکیورٹی نقائص جو دور کر لیے گئے

انٹرنیٹ پر ویڈیو عام کرنے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک میں موجود سیکیورٹی نقائص کو ‘بائٹ ڈائس’ کی نشاندہی کے بعد دور کر لیا گیا ہے۔

ان سکیورٹی نقائص کی وجہ ہیکرز اس پیلٹ فارم پر لگی کسی ویڈیو کو ڈیلیٹ یا اپ لوڈ کر سکتے،ذاتی تفصیلات اور سیٹنگز میں رد و بدل کر سکتے تھے۔ چیک پوائنٹ نامی سیکیورٹی فرام میں کام کرنے والے تحقیق کاروں نے کئی ایسے سقم تلاش کیے ہیں جو ہیکر کے لیے ایک آسان ذریعہ ثابت ہو سکتے تھے۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ ان سب نقائص کو دور کر لیا گیا اور انھیں خبردار کرنے پر انھوں نے سیکیورٹی فرم کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے
وہ دہائی جس میں سوشل میڈیا نے زندگیاں بدل کر رکھ دی

بڑا گھر نہ مہنگے کپڑے، مگر ٹک ٹاک پر وائرل

بڑا گھر نہ مہنگے کپڑے، مگر ٹک ٹاک پر وائرل

ٹک ٹوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بہت سے دوسرے اداروں کی طرح وہ سکیورٹی امور سے متعلق ذمہ دار تحقیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ خاموشی سے انھیں ’زیرو ڈے‘ کمزوریوں کی نشاندہی کریں۔

زیرو ڈے کمزوریوں کے معنی ایسے سکیورٹی نقائص ہوتے ہیں جن کا ہیکر کو یا تو پتا نہ چل سکا ہو یا انھوں نے ان کا فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

ٹک ٹاک کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بات عام کرنے سے پہلے چیک پوائنٹ نے اتفاق کیا تھا کہ تمام نقائص جن کی نشاندہی کی گئی ان کو نئے ایپ میں دور کر لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ ان کا حل نکال لینے کے بعد سکیورٹی تحقیق کاروں کے ساتھ تعاون بڑھے گا۔

چیک پوائنٹ نے کہا کہ ٹک ٹاک میں یہ سکیورٹی نقائص گذشتہ ایک برس سے تھے اور اس نے یہ سنگین سوالات اٹھائیں ہیں کہ کسی ہیکر کو ان کا علم ہوا کہ نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بائٹ ڈانس نے بڑی ذمہ داری سے ان کے حل بتائے جانے کے ایک ماہ کے اندر اندر ان کو ٹک ٹاک سے دور کر لیا ہے۔

ان سکیورٹی نقائص کی بڑی وجہ وہ طریقہ کار ہے جو ٹک ٹاک صارفین کے فون نمبروں کے ساتھ منسلک ہے اورصارفین کو ایپ کے اندراج کراتے وقت دینے پڑتے ہیں۔

چیک پوائنٹ کو علم ہوا کہ ہیکر ان فون نمبروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور پھر ان پر ٹک ٹاک کی طرف سے انھیں تحریری بیانات بھیج سکتے ہیں۔
.سیکیورٹی کنسلٹنٹ اودد وانونو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بارے میں بہت سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ٹک ٹاک کتنا محفوط ہے یا کتنا محفوظ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹک ٹاک میں کئی سنگین نوعیت کے نقائص ہیں۔

انھوں نے کہا کیونکہ انھیں ٹک ٹاک پیلٹ فارم کو پوری طرح رسائی حاصل نہیں ہے اس لیے وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ کسی نقص کا فائدہ اٹھایا گیا ہے کہ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اندازہ کریں کہ اگر کوئی اس پیلٹ فارم کو جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تو اس کے لیے یہ کتنا آسان کام ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی فوجی حکام نے تمام فوجیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ چین کے ایپ کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ فونز پر نہ کھولیں کیونکہ خدشہ ہے کہ کہیں ان کا کوئی سرا چینی حکومت کے ہاتھ میں نہ ہو۔

ابتدائی طور پر چین اور دوسرے ایشیائی ملکوں میں مقبول ہونے والا یہ ایپ جس میں مختصر دوارنیے کی ویڈیو بنا کر عام کی جا سکتی ہے میں حالیہ برسوں میں اس میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور اب اس کے ایک اعشاریہ پانچ ارب صارفین ہیں۔