امیت شاہ غیر معمولی سکیورٹی حصار میں سری نگر پہنچ گئے سری نگر میں بھارتی فورسز کی 25 اضافی کمپنیاں تعینات انٹرنیٹ سروس معطل ،سینکڑوں موٹر سائیکلوں کو ضبط کر لیا گیا

سری نگر() بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ غیر معمولی سکیورٹی حصار میں ہفتے کو سری نگر پہنچ گئے۔ امیت شاہ مقبوضہ کشمیر میں تین روزہ قیام کے دوران کشمیر کی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ  لیں گے ۔ ان کے دورے  پرمقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے تحت بھارتی فورسز کی  بھاری نفری تعینات کر دی ہے ۔ بھارتی ٹی  وی کے مطابق بھارتی فورسز کی  25 اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ بھارتی حکام کو خطرہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر سری نگر میں قیام کے دوران حملہ ہو سکتا ہے ۔ کے پی آئی  کے مطابق غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے تحت بھارتی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری  کی آمد سے سری نگر کے رہائشیوں میںخوف و ہراس پھیل گیا شہر بھر کے مختلف مقامات پر بھارتی  فورسز اہلکار لوگوں کو روک کر تلاشی لینے کے ساتھ شہریوں کی موٹر سائیکلوں کو بھی ضبط کر رہے ہیں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ ادھر لال چوک میں خواتین نیم فوجی دستوں کو خواتین اور ان کے بیگز کی تلاشی لیتے دیکھا گیا،کچھ کشمیری شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ برسوں کے بعد پہلی بار ہوا ہے جب وہ خواتین فوجیوں کے ذریعے عوامی سطح پر خواتین کی تلاشی دیکھ رہے ہیں۔  غیر ملکی نیوز پورٹل  کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے پریشان سری نگر کے علاقے چتبل کی رہائشی صبا نے بتایا: ہم نہیں جانتے کہ انٹرنیٹ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یہ صبح بحال ہوجاتا ہے اور دوپہر کو معطل ہو جاتا ہے، میرے بچے آن لائن کلاسز لیتے ہیں جو وہ نہیں لے پا رہے۔پرانے سری نگر میں ایک نوجوان کاروباری شخصیت اور ڈیلیوری کمپنی کے مالک سمیع اللہ اس صورت حال سے پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا: موٹر سائیکلوں کے ضبط کیے جانے کی وجہ سے ہمارے ڈیلیوری بوائز کو مسائل کا سامنا ہے جس کے باعث ہمیں یہ سہولت بند کرنی پڑی ہے۔ شہر میں اتنے چیک پوائنٹس ہیں کہ ہمارے لڑکے پارسل پہنچانے کے لیے لوگوں تک اور کئی مقامات تک نہیں پہنچ پاتے۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں کاروبار کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سمیع اللہ کا کہنا تھا: ہم اس نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمیں گذشتہ سالوں اور کرونا کی وبا کے دوران اٹھانا پڑا ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال اگر اسی طرح جاری رہی تو ہمارے نقصانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک نجی کمپنی کے ملازم عارف نے کہا: میری موٹر سائیکل ضبط کر لی گئی اور مجھے شہر کے مرکزی پولیس سٹیشن میں چار گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ میرے پاس تمام کاغذات موجود تھے لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی اور میری موٹر سائیکل کو پولیس سٹیشن لے گئے۔تب سے ہی عارف پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اپنے دفتر آ رہے اور ان کے دفتر کے حکام کو خدشہ ہے کہ ان کی موٹر سائیکل دوبارہ ضبط کر لی جائے گی۔ عارف نے کہا: اس صورت حال میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا کافی خطرناک ہو سکتا ہے۔دوسری جانب شہر میں نئے نئے تعمیر ہونے والے بنکروں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔