برطانوی نشریاتی ادارے کے لیے کام کرنے والے کشمیری صحافی مختیار ظہور کو گرفتار کر لیا گیا نئی میڈیا پالیسی حکومت کو آزادانہ رپورٹنگ کو سینسر کرنے کا وسیع تر اختیارات فراہم کرتی ہے

سری نگر() برطانوی نشریاتی ادارے کے لیے کام کرنے والے کشمیری صحافی  مختیار ظہور کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔27 سالہ مختیار ظہور کو گرفتار کے بعد سری نگر کے  منشی باغ پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا  ہے ۔  مختیار ظہور  کے گھر پر چھاپے  میں انہیں گرفتار کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں ان دنوں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئی ہیں  ایک ہفتے کے دوران 14 سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں نے مختیار ظہور کی گرفتاری پر احتجاج کیا  ہے ۔ اس سے قبل مئی میں کشمیر کی نوجوان صحافی مسرت زہرا کے خلاف پولیس نے غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد کے قانون (UAPA) کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔مسرت زہرا گذشتہ کئی سال سے فری لانس صحافی کے طور پر  کشمیر میں سرگرم ہیں اور کئی انڈین اور بین الاقوامی خبررساں اداروں کے لئے کام کر چکی ہیں۔بھارت کی جانب سے اگست 2019 میں خطے کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کئی مہینوں تک صحافت پر جمود طاری ہو گیا تھا، بھارت نے گزشتہ سال جون میں ایک متنازع میڈیا پالیسی متعارف کرائی تھی جو حکومت کو آزادانہ رپورٹنگ کو سینسر کرنے کا وسیع تر اختیارات فراہم کرتی ہے۔سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے زیادہ تر مقامی صحافتی ادارے پریس دبا کا شکار ہیں، صحافی کو اکثر گمنام آن لائن دھمکیوں کی حامل جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے۔