مشرقی لداخ میں چین کے مقابلے میں بھارت کی پوزیشن خراب ہے ۔ غیر ملکی رپورٹ بھارت کے ہتھیار یا ساز و سامان اس کی اقتصادی حالت کے سکڑنے سے کمزور حالت میں ہیں

سری نگر() مشرقی لداخ کے مشکل ترین محاز جنگ پر چین کے مقابلے میں بھارت کی پوزیشن خراب ہے ۔ غیرملکی رپورٹ کے مطابق  چین کے مقابلے میں بھارت کے ہتھیار یا ساز و سامان اس کی اقتصادی حالت کے سکڑنے سے کمزور حالت میں ہیں۔ بھارت میں کرونا بحران کے باعث اقتصادی گراوٹ کے بعد بحالی کی رفتار سست ہے۔ وی او اے کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت بھی دور دراز کے سرحدی علاقوں میں سٹرکیں اور پل بنا رہا ہے اور اپنی فوج کی نقل و حرکت کے لیے پہاڑی علاقوں میں سرنگیں بھی بنا رہا ہے، اس کے مقابلے میں چین نے کہیں زیادہ تیزی سے کام شروع کر رکھا ہے۔علاوہ ازیں چین کے مقابلے میں بھارت کے ہتھیار یا ساز و سامان اس کی اقتصادی حالت کے سکڑنے سے کمزور حالت میں ہیں۔ بھارت میں کرونا بحران کے باعث اقتصادی گراوٹ کے بعد بحالی کی رفتار سست ہے۔خطے کی ایک ماہر رناڈے کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے اقتصادی بوجھ دسیوں ہزاروں فوجیوں کی بلند و بالا پہاڑوں میں تعیناتی ہی نہیں ہے بلکہ نئے اسلحے اور ساز و سامان کی خریداری بھی ہے تاکہ بھارت سرحدوں پر دونوں جانب سے درپیش خطرے سے نمٹنے کی حالت میں ہو۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین پاکستان کے ذریعے بھی اپنی فوجی طاقت کا اظہار کر سکتا ہے۔ چنانچہ بھارت کو دونوں ملکوں کی مجموعی طاقت کا سامنا ہو گا کیونکہ پاکستان یقینا چین کی مدد کرے گا۔اس کشیدگی کے پیش نظر بھارت کی ان کوششوں کو تقویت مل رہی ہے جو وہ گزشتہ دس سال سے اپنی ملٹری کوجدید بنانے کے لیے کر رہا ہے جس کا مقصد بری، بحری اور فضائی افواج کو بہتر طور پر یکجا کرنا ہے۔حال ہی میں نئی دہلی نے چار ملکوں کے گروپ کواڈ کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ کواڈ گروپ میں بھارت کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں اور اس کا ایک اجلاس گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ہوا تھا۔ اگرچہ کواڈ چین کا نام نہیں لیتا لیکن اس کا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔منگل کے روزکواڈ گروپ کے ممبران نے بحر ہندمیں مشترکہ بحری مشقیں شروع کیں۔ بھارتی بحریہ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ مشقیں اس گروپ کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہیں جس کے تحت یہ ممالک انڈو پیسیفک خطے کو ایک آزاد، کھلا اور سب کو قبول کرنے والا خطہ دیکھنا چاہتے ہیں۔کواڈ گروپ میں بھار ت واحد ملک ہے جس کا چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ ہے۔ماہر جوشی کے مطابق کواڈ چین کا سیاسی اور سفارتی طور پر مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن جہاں تک معروضی حالات اور سرحدی حالات کا تعلق ہے تو بھارت کو خود ہی اس سے نمٹنا ہو گ