”کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے“

تحریر: غلام نبی بٹ

آزادکشمیر اسمبلی کے انتخابات کا ڈنکا بج چکا۔لہذا جو ڑ توڑ اور اسمبلی کے انتخابات کے دوران سرمایہ کاری کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔گھر گھر جا کر ووٹروں کی منت سماجت قومیت اور قرابت داری کے واسطے دے کر انہیں سبز باغ دکھا کر بے وقوف بنانا عام ہے۔قوم ہے کہ حسب معمول امیدواروں کے پھندوں میں آکر ان کے ہاتھوں دوبارہ ڈسے جانے کے لیے پوری طرح مستعد نظر آرہی ہے۔ ہائے افسوس
ہم کس قدر بدقسمت ہیں کہ ایک آفاقی دین کے پیروکار ہوتے ہوئے جمہوریت کی مالا جھپتے نہیں تھکتے۔ ہم جمہوریت کے مفہوم سے قطعی ناآشنا ہیں۔ہمارا ہر آنے والا حکمران طبقہ اسی منافقت پر مبنی جمہوریت کا واہ ویلا کر کے عوام کا خیر خواہ بن کر ملک وملت کی نظر یاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی بیخ کنی سے دریغ نہیں کرتا۔ اگر یورپی ممالک میں رائج جمہوریت کا تجزیہ کیاجائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ہے جو بہت حد تک اسلام سے مطابقت رکھتا ہے۔ جہاں پارٹیوں کی بھر مار ہے نہ جلسے جلوس اور ریلیوں کی بھر مار نہ ووٹروں کی منت،نہ ووٹوں کی خریدوفروخت، نہ پولنگ اسٹیشنز کے قریب کسی بھی امیدوار کا انتخابی دفتر، نہ جھنڈوں کی بھرمار،نہ بینروں کا بے تحاشہ اہتمام، مال ودولت کا بے تحاشہ استعمال نہ آئے روز ذاتی مفاد کے لیے پارٹیاں تبدیل کرنے کا مذموم رجحان۔
ہمارے معاشرے کا عام طبقہ ببانگ دھل پارٹیاں تبدیل کرنے والوں کو لوٹا، بھہروپیا، بھگوڑا، مفاد پرست اور اقتدار کا دیوانہ جیسے مذموم ناموں سے یاد کرتا ہے۔ مگر یہ ڈھیٹ لیڈرجانتے بوجھتے عبرت نہیں پکڑتے۔ عوام پھر بھی ان ہی لوٹوں اور بہروپیوں کو ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ان کے منت سماجت کے نتیجہ میں کامیاب کروا کر اپنے کندھوں پر بٹھا کر مسند اقتدار تک پہنچاتے ہیں اور جب یہ امیدوار کامیاب ہو کر گل کھلاتے ہیں تو پھر انہیں جی بھر کر گالیاں بھی دیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت مجموعی ووٹ کی قدر وقیمت کا احساس نہیں۔اہل یورپ جو اہل کفر ہیں انہیں ووٹ کی قدر واہمیت کا احساس ہے۔وہ کسی بھی بدقماش اور ملک وملت کے دشمن کو قطعی ووٹ دینا گوارا نہیں کرتے۔
بہر حال شرعی، قانونی،آئینی اور اخلاقی اعتبار سے ووٹ کی تین حیثیتیں ہیں۔جن کی بنیاد پر ملک کے نظام کی باگ ڈور امانت دار،دیانت دار اور قیامت میں احساس جوابدہی رکھنے والوں کے ہاتھوں میں آکر ملک وملت کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کی منازل پر پہنچا سکتے ہیں۔ووٹ کی تین حیثیتں: شہادت یعنی گواہی، دوسری سفارش اور تیسری حیثیت وکیل بنانے کی ہے۔گواہی اس بات کی کہ ووٹ کا امیدوار دیانت دار اور امانت دار ہے اور ووٹ کا مستحق ہے اور سفارش اس بات کی کہ ووٹ کا امیدوار اس منصب کا اہل ہے اور ووٹر کی امیدوار کے حق میں وکالت اس بات کی کہ ووٹ کے امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے اور اگر ووٹر کی گواہی، اس کی سفارش اور اس کی وکالت بجا اور مبنی برانصاف اور شریعت کے تقاضوں کے مطابق ہوئی تو یہ ووٹ کا صحیح استعمال ہو گا۔اور اس کے حق میں اجروثواب کا موجب ہوگا۔اور اگر ووٹر نے شریعت کے تقاضوں کے برعکس اور مروجہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی ذرائع استعمال کر کے ووٹ کا استعمال غیر مستحق فردکے حق میں کیا تواس کے ناجائز ہتھکنڈوں کے استعمال سے ملک وملت کو جو نقصان ہوگا اس کا تمام وبال جہاں اس کے منتخب کردہ نااہل نمائندے کے سر ہو گا اور قیامت میں شدید باز پرس کا ذریعہ ہوگا وہاں اس کے تمام غلط اعمال کا وبال اس ووٹر کے سربھی ہوگا۔اور وہ اللہ کی شدید گرفت میں آکر جہنم کا ایندھن بنے گا۔اس طرز عمل کو منافقت کہا جاتا ہے۔یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے جو بہت سخت ہوگا۔
اب آئیے اصل موضوع کی طرف! یعنی جماعت اسلامی کا انتخابی سیاست میں کردار
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جماعت اسلامی جب بھی انتخابی سیاست میں قدم رکھتی ہے تو شریعت کے تقاضوں اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ کے ویژن کیمطابق ہارجیت کے نقطہ نظر سے ہٹ کر ہر طرح کی آلائیشوں سے پاک ایماندار، امانت دار قیامت میں اپنے دنیاوی اعمال کی جوابدہی کا احساس رکھنے والے باشعور دین کا صحیح فہم رکھنے والے، جرأت مند اور حق گو قیادت کو انتخابات کے میدان میں اتارتی ہے جن پر کبھی برادری ازم قبیلہ ازم،لوٹا کریسی اور دھونس ودھاندلی کے الزامات کے داغ نہیں پڑتے۔ اس دفعہ بھی جماعت اسلامی نے جو 33 امیدوار انتخابات کے میدان میں اتارے ہیں ان پر کسی بھی طرف سے انگلی اٹھانے کی جرأت نہیں ہوئی۔جماعت اسلامی کے امیدواروں میں کوئی جاگیردار ہے نہ کوئی لوٹا،سرمایہ دار ہے نہ کوئی بہروپیا ہے نہ کوئی بھگوڑااور نہ کوئی بے ضمیرسیاستدان۔ اور وہ جذبہ حب الوطنی اور جذبہ شریعت اور جذبہ خدمت خلق سے کماحقہ سرشار ہیں۔ جہاں تک جماعت اسلامی کے امیدواروں کی شکست کا تعلق ہے یہ امر ہرموافق اور مخالف شخص بخوبی جانتا ہے کہ جماعت اسلامی غیر قانونی،غیر اخلاقی اور غیر شرعی ذرائع کے استعمال کی شدید مخالف ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان کے ذریعہ واضح کر دیا ہے کہ اس نے ہر بندہ بشر کو حق وباطل،غلط وصحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت عطاکر رکھی ہے۔ارشاد خداوندی ہے کہ ”اسے (یعنی انسان کو) راستہ دکھا دیا ہے کہ خواہ وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا“(الدھر3)
اسی طرح دوسری جگہ فرمان الہیٰ ہے ”اور ہم نے اسے دونوں راستے (خیر وشرکے)نمایاں کر کے بتادیئے“ (البلد10) اب یہ ہر بندہ بشر کی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کے اعمال کی قیامت میں جوابدہی کا احساس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فہم وشعور کی نعمت کی روشنی میں حق وباطل اور غلط وصحیح میں تمیز کرتے ہوئے اپنے قیمتی ووٹ کو استعمال میں لائے۔ یہ اس کے شعور اور عقل کا امتحان بھی ہے،چاہے تو رحمان کی رضا کے مطابق ووٹ کا استعمال کرے،چاہے تو منافقت اور شیطان کی روش اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہوکر جہنم کا ایندھن بننا قبول کرے۔اس وقت سیاسی اکھاڑے میں کروڑ پتی اور ارب پتی امیدواران اپنے مادی وسائل کی بنیاد پر لوگوں کی وفاداریاں خرید رہے ہیں۔جبکہ جماعت اسلامی کے تمام نمائندگان غریب عوام کی حقیقی نمائندہ کی حیثیت سے مادی وسائل کی بجائے خدمت خلق اور کردار وعمل کی بنیاد پر ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
بہر حال میرے اس مضمون سے وہی مستفید ہو سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔ البتہ جو قرآن حکیم اور نبی اکرم ﷺ کی ہدایات فراموش کر ے وہ میری ان معروضات سے مستفید نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ اس کے دل کو زنگ لگا ہوا ہے اور قرآن کے مطابق اس کی آنکھوں،کانوں اور دلوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔اللہ معاف فرمائے۔
البتہ میرا ہر بند ہ بشر کو چیلنج ہے کہ ”کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے“ اللہ تعالیٰ ہر بند ہ بشر کو نوربصیرت عطا فرمائے۔ آمین
خدا کرے میرا یہ کالم الیکشن کمیشن کے معزز حضرات کی نظروں سے گذرے اور وہ کوئی جرأت مندانہ اقدام اٹھائیں۔