برداشت

نوید فکر
پروفیسر نعیم قاسم

ھماری پوری کائنات ایک ہی ستون پر کھڑی ہے، وہ ہے برداشت کا ستون _اگر اس ستون کو گرا دیا جائے تو کاہنات کاپورا نظام درہم برہم ہو جائے گا-کاہنات میں موجود centripetal forces اور centrifugal forces نظام شمسی کے تمام سیاروں کو متصادم کی بجائے ایک مدار میں حرکت پر مجبور رکھتے ہیں گویا ہر طاقت کا ایک مدار بن جاتا ہے، جس سے اس طاقت کی قوت کا اظہار بھی ہوتا ہےاور اس کا دوسری طاقتوں سے تصادم کی نوبت بھی نہیں آتی ہے – یوں کاہنات صدیوں سے متصادم طاقتوں کی حامل ہونے کے باوجود قائم وداہم ہے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سلامتی اور بقاء کا راز صرف اور صرف دو سروں کو برداشت کرنے ہی میں مضمر ہے – یہ اصول صرف کاہنات ہی نہیں بلکہ انسانی معاشروں کی تشکیل میں بھی کارفرما نظر آتا ہے – جب اور جہاں برداشت کا عمل کمزور پڑ تا ہے یا ختم ہو تا ہے وہاں صرف اور صرف تباہی اور موت کا راج دکھائی دیتا ہے – ایسا معاشرہ خدا کی طرف سے انسانوں کے لیے عزاب کے طور پر مسلط کیے جاتے ہیں – عدم برداشت کے رویے جہاں معاشرے کے افراد کے لیے تباہ کن اثرات کے حامل ہوتے، وہاں جہالت کے آہینہ دار بھی ہوتے ہیں، جیسا کہ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں عیاں ہے، خصوصاً سیاست کے میدان میں ہر وقت کم ررجے کے کمزور اور گھٹیا افراد ایک دوسرے پر غراتے ہوئے طوطو مار کر رہے ہوتے ہیں انہیں کون بتائے
ع زبان بگڑی تو بگڑی خبر لیجیے دہن بگڑا
جس معاشرے میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے، وہیں انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو تی ہے_ایسا معاشرہ ہی پنپتا ہے، جہاں اختلاف رائے کو برداشت کیا جا تا ہے، جہاں دوسروں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے – جہاں اختلافات کو دشمنی کا نام نہیں دیا جاتا ہے فرانسیسی مفکر والٹیر کہتا ہے “میں تمارے نظر یا ت سے اتفاق نہیں کرتا ہوں مگر اختلاف رائے کے تمارے اس حق کے لیے میں مرتے دم تک لڑوں گا”
طاقتور جانوروں کی نسبت کمزور جانور زیادہ شور کرتے ہیں مگر یہ بات شیخ رشید وں اور شہباز گلوں کی سمجھ سے بالاتر ہے
بقول میر انیس
خیال خاطر احباب رکھیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو شکریہ