ایمنسٹی انٹرنیشنل کی انسانی حقوق سے متعلق اپنی رپورٹ میں بھارت پر کڑی تنقید

لندن07 اپریل : لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل“نے کورونا وبا کے سلسلے میں سخت لاک ڈاﺅن کے نفاذ سے شہریوں کی زندگیوں کی اجیرن بنانے، شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور کسان مظاہرین کے ساتھ بہیمانہ برتاﺅ روا رکھنے اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں شہری آزادیاں سلب کرنے پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ”سٹیٹ آف دی ورلڈ ہیومن رائٹس 2020،2021 “کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں 149 ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ میں بھارت سے متعلق کہا گیاہے کہ مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں ملوث جتھوں اور پولیس افسران کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اور قاتلوں اور حملہ آوروں کو وسیع پیمانے پر استثنیٰ دی جاتی ہے اور اس حوالے سے احتساب کا فقدان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس مارچ میں کورونا کی وجہ سے لگائے جانے والے لاک کے دوران پولیس نے تارکین وطن مزدوروں کو اس حوالے سے ضوابط کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لاک ڈاو ¿ن کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق پسماندہ طبقات سے ہے۔