زیادتی کے ملزم کو متاثرہ لڑکی سے شادی کا کہنے پر بھارتی سپریم کورٹ تنقید کی زد میں

بھارت کی سپریم کورٹ نے زیادتی کے ایک ملزم کو متاثرہ لڑکی سے شادی کا مشورہ دے دیا جس پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ مذکورہ شخص نے 15-2014 میں ایک 16 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور گزشتہ دنوں بومبے ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ نے 23 سالہ ملزم  کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی جس کے دوران چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ کیا ان کا مؤکل متاثرہ لڑکی سے شادی کرے گا؟

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ “ہم آپ کو مجبور نہیں کررہے اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بتائیں بصورت دیگر آپ کہیں گے کہ ہم آپ کو مجبور کررے ہیں۔”

اس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 23 سالہ ملزم موہت سبہاش کی شادی اب زیادتی کا شکار لڑکی سے نہیں ہوسکتی کیونکہ اب وہ شادی شدہ ہیں، وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ ان کا مؤکل پہلے لڑکی سے شادی کا خواہشمند تھا لیکن اس نے انکار کردیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ یہ سب چیزیں آپ کو لڑکی کو بہکانے اور اس کے ساتھ زیادتی کرنے سے پہلے سوچنی چاہیے تھیں۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری  کی درخواست بھی قبل کر لی۔

عدالت کے ان ریمارکس پر بھارتی اداکارہ تاپسی پنو اور گلوکارہ سونا موہاپترا سمیت متعدد افراد نے غصے کا اظہار کیا ہے ۔

تاپسی پنو نے ٹوئٹر پر عدالتی سوال سے متعلق خبر شیئر کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ کیا کسی نے لڑکی سے یہ سوال پوچھا؟ کیا وہ زیادتی کرنے والے سے شادی کرنا چاہتی ہے؟یہ مسئلے کا حل ہے یا سزا ہے؟