مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں، مسلمانوں پر حملوں اور ناقدین کےخلاف کارروائی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت پر کڑی تنقید

نیویارک15جنوری : انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیں ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز کرنے  بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اورکارکنوں ، صحافیوں اور دیگر ناقدین کو ہراساں ، گرفتار اور ان کے خلاف مقدمات کے اندراج پر نریندر مودی کی بھارتی حکومت کی مذمت کی ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2021 میں کہا ہے بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں سخت اور امتیازی پابندیاں عائد کر رکھی ہےں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیرمیں سینکڑوں لوگ بغیر کسی الزام کے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند ہیں۔ اس کالے قانون کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے دو سال تک نظربند رکھا جاسکتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے جون 2020 میں جموںکشمیر کیلئے ایک نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت حکام کو “جھوٹی خبروں ، سرقہ اور غیر اخلاقی یا ملک دشمن سرگرمیوں” کے تعین کا فیصلہ کرنے اورمیڈیا گروپوں ، صحافیوں اور ایڈیٹروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار حاصل ہے ۔ اس پالیسی میں مبہم دفعات شامل ہیں جن کا کھلے عام استعمال کیاجاسکتا ہے اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کے استعمال پرسزائیں دی جاسکتی ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی حکومت نے ناقدین ،صحافیوں ، اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بھی پابندی عائد کررکھی ہے۔اگست 2019 سے مواصلاتی نیٹ ورک تک رسائی پر پابندی سے خاص طور پر وادی کشمیر کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے بڑی حد تک جس کا دارومدار سیاحت کے شعبے پر ہے ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزکے تخمینے کے مطابق اگست 2019 کے بعد احتجاجی کو روکنے کےلئے کئے گئے لاک ڈاو ¿ن کے پہلے تین ماہ کے دوران جموںوکشمیر کی معیشت کو دو ارب 40کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ گزشتہ سال مارچ میںبھارتی حکومت نے مقبوضہ جموںوکشمیرمیںکورونا وبا کی روک تھام کیلئے مزید پابندیاں عائد کر دیں جس کی وجہ سے معاشی نقصانات دوگنا ہو گئے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہلک عالمی وبا کے دوران معلومات ، مواصلات ، تعلیم اور کاروبار کےلئے انٹرنیٹ تک رسائی انتہائی ضروری ہو گئی تھی اوربھارتی سپریم کورٹ نے بھی جنوری میںکہاتھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی ایک بنیادی حق ہے تاہم بھارتی قابض انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں صرف سست رفتار 2 جی موبائل انٹرنیٹ سروسز کی اجازت دی جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کو کورونا وبا کی روک تھام کیلئے معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کے تحت بھارتی فورسزکے اہلکاروں کوانسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر بھی مکمل استثنیٰ جاری ہے ۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ضلع شوپیاںمیںتین کشمیریوںکو عسکریت پسند قراردیکر قتل کردیا تاہم اگست میںان کے اہلخانہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مقتولیں کی تصاویر کے ذریعے انہیں پہنچان کر فوج کے اس دعویٰ کو رد کردیا تھا ،متاثرہ خاندانوںکا کہنا تھا کہ وہ محنت کش تھے۔ ستمبر میں بھارتی فوج نے تصدیق کی کہ انکوائری میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کالے قانون افسپا کے تحت فوجیوںنے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ان اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی ۔ہیومن رائس واچ نے کہا کہ بھارتی فوج ہجوم کو منتشر کرنے کےلئے دھات کے چھروں کو فائر کرنے والی شاٹ گنوں کا استعمال بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ تنظیم نے کہا کہ بھارتی فوج مذکورہ گنوں کا استعمال اس بات کے ثبوت کے باوجود جاری رکھے ہوئے ہے کہ ان کے چھرے لگنے کی وجہ سے انسان اندھے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ایچ آر ڈبلیو نے نشاندہی کی کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف حملے جاری ہیں اور حکام حملوں کی شہ دینے والے بی جے پی رہنماو ¿ں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کے امور کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت پرامن تنقید کو سخت قوانین کے ذریعے دبانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا بھارتی حکام نے 2020مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں اور خواتین پر بڑھتے ہوئے حملوں کے سدباب کے بجائےتنقیدی آوازوں کے خلاف کریک ڈاﺅن تیز کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس فروری میں دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور200 سے زائد زخمی ہونے کے علاوہ ہندو ہجوم نے املاک تباہ کی تھیں۔ رپورٹ میں کہا کہ حملوں کے متاثرین کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ حملے بھارتی حکومت کی امتیازی سلوک والی شہریت کی پالیسیوں کے خلاف ہفتوں کے پر امن احتجاج کے بعد ہوئے تھے جبکہ بی جے پی رہنماﺅں نے کھلم کھلا تشدد کی حمایت کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دہلی اقلیتی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسلمانوں کو ایک منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا گیا جبکہ پولیس نے مسلمان متاثرین کے خلاف ہی مقدمات درج کیے اورتشدد بھڑکانے والے بی جے پی رہنماو ¿ں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ “ایچ آر ڈبلیو نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ دلتوں اور خواتین کے خلاف بھی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں اترپردیش میں اونچی ذات کے چار ہندو افراد کی طرف سے ایک 19 سالہ دلت خاتون کی اجتماعی عصمت دری اور تشدد کا نشانہ بننے کے بعد موت ہوگئی ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں شدید جبر استبداد کی بین الاقوامی سطح پر تنقید ہوئی اور تنقید کرنے والوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ بھی شامل ہیں جنھوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں ، کارکنوں کی گرفتاریوں اور سول سوسائٹی پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔