ہیومن رائٹس واچ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش جموں وکشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت اور متعصبانہ پابندیاں عائد ہیں بڑی تعداد میں کشمیری پی ایس اے کے تحت بغیر کسی الزام کے حراست میں ہیں ہیومن رائٹس واچ نے 761 صفحات کی عالمی رپورٹ 2021 جاری کر دی ہے

واشنگٹن نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  کہا ہے کہ 5 اگست 2019   کے بعد بھارت نے  جموں وکشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت اور متعصبانہ پابندیاں عائد کی تھیں . نئی میڈیا پالیسی کے زریعے صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ،۔ بڑی تعداد میں کشمیری  کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے حراست میں ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی عالمی رپورٹ 2021  جاری کر دی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019  کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعدجموں و کشمیر  کے مسلم اکثریتی علاقوں پر  سخت اور متعصبانہ پابندیاں عائد کیں۔جموں وکشمیر میں بے شمار افراد کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے۔ یہ قانون  بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک حراست کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت نے جموں وکشمیر میں ناقدین اور صحافیوں کو بھی روک دیا۔جون 2020 میںحکومت نے جموں و کشمیر میں ایک نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت حکام کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ جعلی خبروں یا ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام میں صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔۔ حکومت نے نقادوں ، صحافیوں ، اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بھی پابندی عائد کردی۔5اگست 2019 سے مواصلاتی نظام بند ہے  ۔ اس صورت ھال نے وادی کشمیر میں معاشیات کو بری طرح متاثر کیا۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے اندازہ لگایا ہے کہ اگست 2019 کے بعد سے احتجاج کو روکنے کے لئے لاک ڈان کے پہلے تین ماہ میں معیشت کو 4 2.4 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ، جس کے لئے کوئی تدارک نہیں کیا گیا۔ مارچ 2020 میں حکومت نے کوویڈ 19 کے پھیلاو پر قابو پانے کے لئے مزید پابندیاں عائد کرنے کے بعد نقصانات کو قریب دگنا کردیا۔وبائی مرض نے معلومات ، مواصلات ، تعلیم اور کاروبار کے  لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ تاہم ، جنوری میں بھارتی سپریم کورٹ  نے  انٹرنیٹ معاملے کا اختیار ایگزیکٹو کو دے دیا۔انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باوجود بھی آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ  بھارتی فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی سے روکتا ہے۔ جولائی میں ،  فورسز نے ضلع شوپیان میں   تین افراد قتل کرکے  یہ دعوی کیا تھا کہ وہ عسکریت پسند ہیں۔ تاہم یہ دعوی جھوٹ نکلا  مارے جانے والے راجوی کے مزدور تھے ۔ عالمی  انسانی حقوق ادارے نے ، بھارتی مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں، انسانی حقوق کارکنوں ، صحافیوں اور دیگر ناقدین کو ہراساں کرنے ، گرفتاریوں، قانونی کارروائی  پر بھارتی حکومت  کی حکومت کی مذمت کی ہے۔ عالمی رپورٹ 2021   کے مطابق  بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا ۔مسلمانوں پر تشدد کرنے والے بی جے پی کے حامیوں اور رہنماوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ۔ وبائی مرض کرونا وائرس لاک ڈان سے  پسماندہ طبقات کو نقصان پہنچایا گیا جس کی وجہ سے  معاش اور خوراک کی کمی ، رہائش ، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر بنیادی ضروریات کے مسائل پیدا ہوئے۔ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا  بارے  ڈائریکٹر ، میناکشی گنگولی نے ایک بیان میں کہا ، “ہندستانی حکومت سخت قوانین کا استعمال کرتے ہوئے پرامن تنقید پر  ناقدین کو سزا دینے کے لئے پرعزم ہے۔ہندوستانی حکام نے مسلمانوں ، اقلیتوں ، اور خواتین پر بڑھتے ہوئے حملوں کے سدباب کرنے کے بجائے ، سن 2020 میں تنقیدی آوازوں کے خلاف ا کریک ڈان بڑھایا۔761 صفحات پر مشتمل عالمی رپورٹ 2021 میں ، 100 سے زائد ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  گزشتہ سال  فروری میں دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ، 200 سے زائد زخمی ، املاک تباہ  ہوئیں۔ہندو ہجوم کے ذریعے اقلیتی مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا  کمیونٹی کے لوگ بے گھر ہوے۔ ، متاثرین کی اکثریت مسلمان تھی۔ یہ حملے ہندوستانی حکومت کی امتیازی سلوک والی شہریت کی پالیسیوں کے خلاف ہفتوں کے پر امن احتجاج کے بعد ہوئے  تھے۔بی جے پی قائدین  کی طرف سے  مظاہرین کے خلاف کھلم کھلا تشدد کی حمایت کرنے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا ۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اطلاع دی ہے کہ یہ کارروائی  منصوبہ طبندی سے کی گئی  پولیس نے  مسلم متاثرین کے خلاف مقدمات درج کیے بی جے پی رہنماں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔